پی سی او ججوں کو روکنے کا مطالبہ

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
ملک کی چاروں صوبائی بار کونسلوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جن ججوں نے تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا ان ججوں کو عدالتی کام کرنے سے روک دیا جائے۔
یہ مطالبہ صوبائی بار کونسلز کے اجلاس میں کیاگیا جس میں پنجاب سندھ اور سرحد کی بار کونسلوں کے عہدیداروں نے شرکت کی جبکہ بلوچستان بارکونسل کے نمائندوں سے ٹیلی فون پر مشاورت کی گئی ۔
اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ بار کونسل کے وائس چئرمین محمودالحسن نے کہا کہ وکلا تنظیمں سپریم کورٹ کے اکتیس جولائی کے اس فیصلے پر مکمل طور پر عمل درآمد چاہتی ہیں جس کے ذریعے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدامات کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔
ان کے بقول جن ججوں نے تین نومبر کو عدالتی احکامات کے باوجود پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے وہ توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے ان کے خلاف توہین عدالت کے الزام میں کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں کے خلاف کارروائی توہین عدالت کے الزام میں کارروائی نہ کی گئی تو وکلا تنظیمں خود ان ججوں کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں دائر کریں گے۔
محمود الحسن نے مزید کہا کہ کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف جلد از جلد ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجیں جائیں اور جب تک ریفرنس پر کارروائی مکمل نہیں ہوتی اس وقت تک ان ججوں کو عدالتی کام کرنے سے روک دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان ججوں کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیے جائیں جو اکتیس جولائی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ریٹائرڈ ہوگئے ہیں ۔
سندھ بار کونسل کے وائس چئرمین نے بتایا کہ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ تمام ہائی کورٹس میں ججوں کی خالی اسامیاں پر تیس اگست تک تعیناتی کی جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئے ججوں کو متعین کرتے وقت متعلقہ بار ایسوسی ایشن سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔
محمود الحسن نے یہ بھی اعلان کیا کہ ملک کی چاروں صوبائی بارکونسلز کے انتخابات ایک ہی دن یعنی اکیس نومبر کوہونگے۔
خیال رہے جمعہ کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہو ہائی کورٹ کے پنڈی، ملتان اور بہاولپور میں علاقائی بنچوں کے لیے جج مقرر کیے تھے لیکن ان شہروں کے وکیلوں نے کہا ہے کہ وہ ان ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونگے جہنوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا اور اسی وجہ سے ججوں کی علاقائی بنچوں میں تعیناتی کا نوٹیفیکیشن منسوخ کردیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے وکلا سے یہ بھی کہا کہ جو وکیل پی سی او جج کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہتے ان کے مقدمات عدم پیروی پر خارج نہیں ہونگے۔
علاوہ ازیں لاہور ہائی کورٹ کے برطرف کیے جانے والے ججوں میں سے انیس ججوں کا اجلاس بھی دو روز قبل لاہور میں ہوا ہے اور اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بارے میں نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔






















