محسود کے رشتہ دار حراست میں؟

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
اگرچہ طالبان سربراہ بیت اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی طالبان کی جانب سے تواتر کے ساتھ تردید ہورہی ہے لیکن اب کچھ ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں جن سے پاکستانی اور امریکی حکام کے ان دعووں کو بظاہر تقویت مل رہی ہے کہ بیت اللہ محسود ہلاک ہوچکے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں قبائلی، سرکاری اور بعض طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ بیت اللہ محسود کےسسر مولانا اکرام الدین، ان کے بیٹے ضیاءالدین، بھائی سعید اللہ اور بھانجھا اقبال محسود گزشتہ کچھ دنوں سے طالبان کی حراست میں ہیں۔
رائٹرز نے ایک مقامی قبائلی رہنما کے حوالے سے کہا ہے کہ طالبان نے بیت اللہ محسود کے ڈرائیور کو، پانچ اگست کے ڈرون حملے کے فوری بعد، جاسوسی کے شک میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔
ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اس لیے طالبان نےحراست میں لے کر سرہ روغہ میں رکھا ہے کہ انہیں شک ہے کہ بیت اللہ محسود کے سسرالیوں نے ان کی جاسوسی کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ طالبان نے ان افراد کو تاحال قصور وار نہیں ٹھہرایا ہے تاہم ان سے پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ اس سلسلے میں طالبان سربراہ کی ہلاکت سے جڑی ہوئی دیگر کڑیوں کا پتہ چلایا جاسکے۔
تاہم حکومت اور نہ ہی طالبان نے رسمی طور پر بیت اللہ محسود کے سسرالیوں کے پکڑے جانے کی کوئی تصدیق کی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی حکام کا دعوٰی ہے کہ بیت اللہ محسود اپنے سسر کے مکان پر ہی پانچ اگست کی رات کو امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بنے تھے جس میں ان کی اہلیہ بھی ہلاک ہوگئی تھیں۔ طالبان اور مولوی اکرام الدین کے بھانجے اقبال محسود نے بیت اللہ کی اہلیہ کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
مولانا اکرام الدین بیت اللہ محسود کے دستِ راست سمجھے جاتے تھے اور وہ طالبان کے تنظیمی ڈھانچے سے باہر ذاتی طور پر بیت اللہ محسود اور اعلٰی فوجی حکام کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے سسرالیوں کی طالبان کے ہاتھوں گرفتاری کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ اس معمے کو حل کرنے کی طرف ایک اور اہم قدم ہوگا۔ پاکستانی اور امریکی حکام کو قوی یقین ہے کہ بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارے جاچکے ہیں۔
یہاں تک کہ امریکی صدر بارک اوبامہ نے بھی جمعہ کو کہا تھا کہ پاکستانی حکومت کی مدد سے طالبان سربراہ کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ امریکی اور پاکستانی حکومت کے دعووں کے برعکس خود طالبان نے تردید کے ساتھ ساتھ اس عرصے کے دوران کچھ ایسے اقدامات کیے ہیں جس سے یہ شبہ مزید پختہ ہوجاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یعنی جس دن بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی، اس کے اگلے ہی روز حکیم اللہ محسود نے بی بی سی سے رابطہ کرکے تردید کی لیکن انہوں نے ساتھ میں یہ کہہ کر اپنے ہی بیان کو مشکوک بنادیا کہ بیت اللہ محسود علیل ہیں اور وہ میڈیا سے رابطہ نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد متعدد طالبان کمانڈر بھی اس بات پر زور دیتے رہے کہ وہ زندہ ہیں لیکن ثبوت کے طور پر ان کی ویڈیو جاری کرنے کے اعلان کے باوجود وہ ایسا نہیں کرسکے۔
اس دوران طالبان نے معاملے کو مزید مشکوک بنادیا جب انہوں نے مفتی ولی الرحمن کی جگہ، جو بیت اللہ کے ذاتی ترجمان تھے، اعظم طارق کو نیا ترجمان مقرر کردیا۔ اب تحریکِ طالبان کے نائب امیر اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والے مولوی فقیر محمد نے تین دنوں کے دوران دو مختلف اعلانات کرکے مزید پیچیدگی پیدا کردی۔
تین دن پہلے انہوں نے خود کو تحریکِ طالبان کا امیر اور مسلم خان کو مرکزی ترجمان لیکن سنیچر کو انہوں نے اپنا مؤقف بدلتے ہوئے حکیم اللہ محسود کو نیا سربراہ اور اعظم طارق کو ترجمان مقرر کرنے کا اعلان کیا۔
طالبان کی اتنی جلدی جلدی مؤقف اور فیصلے بدلنے سے مبصرین یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اس سے بیت اللہ محسود جیسے مرکزی اور فعال قائد کی عدم موجودگی کا اشارہ ملتا ہے۔






















