’بیت اللہ کی جاسوسی پر سسر ہلاک‘

رحمان ملک
،تصویر کا کیپشنبیت اللہ کی سو فیصد ہلاکت کی تصدیق نہ کرنا حکومتی پالیسی ہو سکتی ہے:رحمان ملک
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے دعوٰی کیا ہے کہ طالبان نے اپنے سابق امیر بیت اللہ محسود کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے شبہ میں ان کے سسر اور بعض دیگر افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

بی بی سی اردو سروس سے اتوار کو ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر داخلہ نے بیت اللہ محسود کے سسر اکرام الدین، ہم زلف اقبال محسود سمیت چار افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمیں ملنے والی معلومات ہیں ان کی تصدیق نہیں ہے‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات اس طرح کی معلومات کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں جن معلومات کی بنیاد پر تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بارے میں کہا تھا۔ ’ہم ان کے گھر گھر تک پہنچ چکے ہیں۔ وہ نکلیں گے اور ہم انہیں مار دیں گے‘۔

آزاد یا طالبان ذرائع سے بیت اللہ محسود کے سسر کے ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ بات تقریباً طے ہے کہ بیت اللہ محسود ہلاک ہو چکے ہیں لیکن ان کی سو فیصد ہلاکت کی تصدیق نہ کرنا حکومتی پالیسی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے نئے رہنما کی تقرری کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ ’ہمارے لیے یہ بےمعنی ہے کہ وہ حکیم اللہ ہو، ولی الرحمان ہو یا قاری حسین ہو۔ مین آدمی بیت اللہ تھا وہ مارا جا چکا ہے‘۔

ان کا اب بھی یہ موقف تھا کہ طالبان قیادت کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ’یہ چھوٹے کردار ہیں۔ ان کے پیچھے اصل تو القاعدہ ہے۔ وہ فیصلے کرتی ہے‘۔

رحمان ملک نے تصدیق کی کہ سابق ترجمان مولوی عمر نے بھی بیت اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور اس کے علاوہ بھی وہ انہیں کافی مفید معلومات فراہم کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر حکومت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ حکومت شدت پسندوں کے خلاف پروپیگنڈے کا سہار لے کر ان میں اختلافات کو ہوا دے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’جب حکومت بات کرتی ہے تو پروپیگنڈا قرار دیا جاتا ہے لیکن جب چیف ٹیررسٹ کچھ کہتا ہے تو درست مان لیا جاتا ہے۔ ہمارا کوئی پروپیگنڈا نہیں۔ ہماری مختلف ذرائع سے معلومات سامنے آتی ہیں‘۔

رحمان ملک کا آج بھی موقف تھا کہ حکیم اللہ محسود آپس کی لڑائی میں زخمی اور پھر ہلاک ہوئے تھے۔ دریافت کیا کہ کیسے وہ کسی مردہ شخص کو اپنا رہنما مقرر کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے بھائی کو جس کی شکل اور آواز ان سے ملتی ہے لایا گیا ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے ہم شکل ہم آواز کوئی لایا گیا ہو‘۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا وہ قیادت میں تبدیلی سے طالبان کی پالیسی میں تبدیلی دیکھتے ہیں تو ان کہنا تھا کہ دہشت گرد دہشت گرد ہی ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں قبائلی، سرکاری اور بعض طالبان ذرائع نے سنیچر کو بتایا تھا کہ بیت اللہ محسود کےسسر مولانا اکرام الدین، ان کے بیٹے ضیاءالدین، بھائی سعید اللہ اور بھانجا اقبال محسود گزشتہ کچھ دنوں سے طالبان کی حراست میں ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اس لیے طالبان نےحراست میں لے کر سرہ روغہ میں رکھا ہے کہ انہیں شک ہے کہ بیت اللہ محسود کے سسرالیوں نے ان کی جاسوسی کی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی حکام کا دعوٰی ہے کہ بیت اللہ محسود اپنے سسر کے مکان پر ہی پانچ اگست کی رات کو امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بنے تھے جس میں ان کی اہلیہ بھی ہلاک ہوگئی تھیں۔ طالبان اور مولوی اکرام الدین کے بھانجے اقبال محسود نے بیت اللہ کی اہلیہ کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

مولانا اکرام الدین بیت اللہ محسود کے دستِ راست سمجھے جاتے تھے اور وہ طالبان کے تنظیمی ڈھانچے سے باہر ذاتی طور پر بیت اللہ محسود اور اعلٰی فوجی حکام کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔