’فوج اب جناح پور کی فائل جلا ڈالے‘

’ان الزامات کی وجہ سے ایم کیو ایم اور اس کا فلسفہ پورے ملک میں نہیں پھل سکا‘
،تصویر کا کیپشن’ان الزامات کی وجہ سے ایم کیو ایم اور اس کا فلسفہ پورے ملک میں نہیں پھل سکا‘
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نصیر اختر اور بریگیڈیئر امتیاز احمد کے بیانات کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف جناح پور بنانے کے الزام جھوٹے تھے، نواز شریف اب قوم کے سامنے آکر وضاحت پیش کریں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر جنرل برگیڈیئر امتیاز احمد نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں بتایا تھا کہ انیس سو بیانوے میں فوجی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے دفتر سے جناح پور کے نقشے کی برآمدگی ڈرامہ تھا، اسی پروگرام میں اس وقت کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر نے کہا کہ وہ جناح پور کا نقشہ برآمد ہونے سے لاعلم تھے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے لندن سے پیر کی شام ٹیلیفون پر تقریر کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ برگیڈیئر آصف ہارون نے کچھ دستاویزات تیار کرکے اسے جناح پور کا نقشہ قرار دیا اور خاص طور پر پنجاب سے صحافیوں کو طلب کرکے انہیں بتایا گیا کہ ایم کیو ایم الگ ملک بنانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق تمام جماعتیں اس الزام کو لیکر ایم کیو ایم کی کردار کشی کرتی رہی، اس الزام کی آڑ میں آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے پندرہ ہزار کارکنوں کو بناکر ہلاک کیا گیا۔

انہوں نے سابق فوجی افسران سے سوال کیا کہ انہوں نے سچ کہنے میں اتنی دیر کیوں کردی، اور یہ کہ ان الزامات کی وجہ سے ایم کیو ایم اور اس کا فلسفہ پورے ملک میں نہیں پھل سکا۔ الطاف حسین نے پاکستان فوج ، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان سے اپیل کی کہ ان اقراری بیانات کے اب ان الزامات کی فائیلوں کو جلا ڈالیں اور کھلے دل سے ایم کیو ایم کو ایک محب وطن جماعت کی حیثت سے گلے لگائیں۔

انہوں نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے کہا کہ وہ ٹی وی پر آکر بتائیں کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے انہوں نے اس فوجی آپریشن کو کیوں نہیں روکا۔ الطاف حسین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے مخاطب ہوکر کہا کہ اس صورتحال کے بعد ’ریکنسیلیشن کمیشن‘ قائم کیا جائے یا نہیں اس کا فیصلہ وہ خود کریں۔

ایم کیو ایم کے سربراہ نے بارہ مئی دو ہزار سات کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کا حوالا دیتے ہوئے کہا کہ اس روز کراچی میں جو کھیل کھیلا گیا اس کا الزام بھی ایم کیو ایم پر عائد کیا گیا، ’میں خدا اور رسول کی قسم کھاکر کھتا ہوں کہ وہ بھی خفیہ ہاتھوں کی سازش تھی، جو کنٹینر لگائے گئے تھے وہ رکارڈ پر موجود ہے کہ کس کے کہنے پر لگائے گئے تھے‘۔