مہنگائی نا قابل برداشت

- مصنف, مناء رانا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان میں ہر سال ماہِ رمضان کی آمد پر اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن صارفین کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود اس بار رمضان کی آمد پر روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔
رمضان میں جن اشیاء کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے ان میں مشروبات، پھل،سبزیاں، کھجوریں، بیسن، خوردنی تیل اور چینی شامل ہیں۔ چینی کا بحران اور اس کی قیمت میں بے حد اضافہ تو رمضان سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا اور قیمتوں کوکنٹرول کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے کئی اقدامات کرنے کے دعوے بھی کیے۔ لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے شہر لاہور کے رمضان بازاروں میں لوگ چینی کے حصول کے لیے روزے کے ساتھ مارے مارے پھرتے رہے۔
بہت کم تعداد میں چینی چھوٹے ٹرکوں میں رمضان بازاروں میں لائی گئی جس کی قیمت چالیس سے پینتالیس روپے تک تھی لیکن یہ اتنی کم تھی کہ بہت کم لوگوں کو مل سکی اور زیادہ تر لوگ اس سے محروم رہے۔

سستے آٹے کے ٹرک بھی رمضان بازاروں میں موجود تھے اور بیس کلو کے تھیلے کی قیمت دو سو روپے تھی لیکن اس سستے آٹے کو حاصل کرنے کے لیے شدید دھوپ اور حبس میں عورتیں، مرد، بوڑھے اور بچے سبھی لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے اور ایک تھیلا لینے کے لیے گھنٹوں کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔
اس طویل قطاروں میں کھڑی خواتین کا مطالبہ تھا کہ اس طرح سے سستا آٹا فراہم کرنا انتہائی غلط طریقہ ہے۔حکومت کو چاہیے کہ ایسے اقدام کرے کہ دکانوں پر سستا آٹا دستیاب ہو اور لوگ آسانی سے خرید سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ غریب آدمی کے لیے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس طرح خوار ہو کر آٹا خریدے کیونکہ عام دکانوں پر آٹا پانچ سو سے چھ سو روپے فی تھیلا دستیاب ہے۔
خواتین نے بتایا کہ وہ بہت دور دور سے سستا آٹا لینے کے لیے آئی ہوئی ہیں اور کئی گھنٹوں سے قطار میں کھڑی ہیں۔ان لمبی قطاروں میں روزے دار بے حال تھے اور کچھ بزرگ بے ہوش بھی ہوئے۔
پھلوں کی دکانوں پر سجے ہوئے صاف ستھرے پھل اور سٹورز پر دستیاب معیاری اشیاء کی قیمتیں تو اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ عام شہری ان کو دیکھ کر ٹھنڈی آہ ہی بھر سکتا ہے۔ اس لیے کم آمدنی والے لوگ رمضان بازاروں کا رخ کرتے ہیں لیکن ان بازاروں میں بھی اشیاء کی قیمتیں ناصرف کافی بڑھی ہوئیں ہیں بلکہ معیاری بھی نہیں ہیں۔
اس ساری صورتحال پر سائیکل پر خریداری کر کے واپس جاتے ہوئے ایک تنخواہ دار منظور حسین کا کہنا تھا کہ رمضان کی اس پہلی خریداری سے ہی انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ اس رمضان میں روزے کافی مشکل ہوں گے اور وہ اپنے خاندان کی غذائی ضروریات پوری نہیں کر سکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر گاہک ہی پریشان نہیں بلکہ دکاندار بھی بے زار نظر آتے ہیں۔ پھل فروش وزیر علی کے مطابق یکم رمضان کو مینار پاکستان کے قریب بڑی منڈی میں چھوٹے پھل فروشوں نے ٹائر جلائے اور احتجاجی مظاہرہ کیا کیونکہ منڈی میں پھل بہت مہنگے تھے جبکہ گاہک اس نرخ پر ان سے یہ پھل لینا نہیں چاہتے جس سے چھوٹے دکاندار کو نقصان ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی ہم چھوٹے دکاندار نہیں کرتے بلکہ بڑے بڑے تاجر کرتے ہیں۔
ماہِ رمضان کے آغاز پر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور ہی نہیں بلک دوسرے شہروں میں بھی صورتحال کم و بیش ایسی ہی رہی۔
گوجرانوالہ سے صحافی احتشام شامی کے مطابق کہ شہر میں چینی کی شدید قلت ہے جبکہ آٹا بھی بہت کم مقدار میں دستیاب ہے۔چکیوں سے جو آٹا مل رہا ہے وہ چالیس روپے کلو ہے جبکہ سرکاری ریٹ بیس روپے کلو ہے۔
صحافی احتشام شامی کے مطابق گوجرانوالہ میں بھی پنجاب حکومت کی طرف سے سستے آٹے کے جو ٹرک بھجوائے گئے وہاں ان ٹرکوں کی آمد سے پہلے ہی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتیں ہیں اور جہاں ٹرک پہنچتا ہے وہاں عجب عالم ہوتا ہے۔ مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو روندتے ہوئے آٹا لینے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ سرکاری اہلکار ان پر لاٹھیاں بھی برساتے ہیں۔






















