’حکیم اللہ کےزندہ ہونےکا بھی یقین نہیں‘

پاکستان کے وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے تحریک طالبان کی نئی قیادت کی جانب سے ان کے امیر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ حکیم اللہ کے زندہ ہونے کا بھی انہیں یقین نہیں ہیں۔
بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں وزیرداخلہ نے کہا کہ اگر حکیم اللہ اور ان کے نائب ولی الرحمٰن زندہ ہیں تو اس کے ثبوت کے طور پر وہ اپنی ویڈیو جاری کریں۔ ’بات اعتماد کی ہوتی ہے۔ طالبان پانچ اگست سے کبھی ایک بات اور کبھی دوسری کرتے رہے ہیں۔ ان کی باتوں میں تضاد ہے۔‘
وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ طالبان پہلے روز سے اپنا موقف تبدیل کرتے رہے ہیں لہذا ان کی بات پر کم از کم وہ یقین نہیں کریں گے۔ ’جب تک ویڈیو نہیں آتی مجھے نہیں معلوم کہ وہ حکیم اللہ ہے یا اس کا بھائی ہے۔‘
سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ وہ اس ویڈیو کا بھی معائنہ کروائیں گے جس کی سہولت ان کے پاس ہے اور پھر تصدیق کریں گے کہ حکیم اللہ بھی زندہ ہے۔
طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان کی بیت اللہ کی ہلاکت سے متعلق بات مان لی ہے تو اب دوسری بات یعنی ہتھیار پھینک دیں وہ بھی مان لیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ یا ولی الرحمان اگر زندہ بھی ہوں تو بےمعنی ہیں کیونکہ اصل فیصلے تو ان کی پشت پر کوئی اور کرتا ہے۔ ’اصل مسئلہ ان لوگوں کا حل نکالنا ہے۔‘


















