این آر او: ’درخواستوں کی سماعت ہوگی‘

چیف جسٹس
،تصویر کا کیپشننیب عدالتوں میں نہ تو مؤثر طریقے سے کام ہوا اور نہ ہی مقدمات تیزی سے نمٹائے گئے: چیف جسٹس
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈنینس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ضرور ہوگی۔

یہ ریمارکس انہوں نے بدھ کے روز ایک درخواست کی سماعت کے دوران دیے جس میں وفاقی تحقیاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عشرت علی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اُن کے خلاف دائر مقدمے کو بھی این آر او کے تحت ختم کیے جائے۔

چیف جسٹس نے اس درخواست کو بھی این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ میں دائر دیگر درخواستوں کے ساتھ شامل کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب تک ان درخواستوں پر فیصلہ نہیں آجاتا اُس وقت تک درخواست گُزار کو ریلیف نہیں دیا جاسکتا۔

نیب نےایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عشرت علی کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا تھا تاہم عدالت نے اُس کی ضمانت منظور کرلی تھی اور انہوں نے اس حوالے سے دس لاکھ روپے بطور ضمانت عدالت میں جمع کروائے تھے۔ مزکورہ سرکاری اہلکار نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست اس رقم کو واپس لینے کے لیے دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ رحمان ملک سمیت دیگر سینکڑوں افراد کے مقدمات ختم کیے گئے تھے اور یہ تمام مقدمات غیر آئنی قرار دیئے جانے والے چیف جسٹس عبدلحمید ڈوگر کے دور میں ختم ہوئے تھے۔

اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ جب نیب کا ادارہ ہی ختم ہوجائے گا تو اُس کے ساتھ این آر او کی حیثیت بھی ختم ہوجائے گی۔

چیف جسٹس نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی عدالتوں کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان عدالتوں میں نہ تو مؤثر طریقے سے کام ہوا اور نہ ہی مقدمات تیزی سے نمٹائے گئے۔

اسلام آباد سٹاک ایکسچینج سکینڈل کے از خود نوٹس کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چاہیے تو یہ تھا کہ ان عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی سماعت کرکے ان مقدمات کو فوری طور پر نمٹایا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اعلٰی عدالتوں کے جج صاحبان زیادہ دیر تک عدالتوں میں بیٹھ کر مقدمات کی سماعت کرسکتے ہیں تو پھر نیب کی عدالتوں کے جج صاحبان ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔

چیف جسٹس نے اس مقدمے کی تفتیش مکمل نہ ہونے پر قومی احتساب بیورو کے اہلکاروں کی سرزنش کی اور حکم دیا کہ اس مقدمے کی تفتیش جلداز جلد مکمل کی جائے۔

انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے اہلکار ملزم کے ساتھ بارگین کرکے لاکھوں روپے لےلیتے ہیں اور کروڑوں روپے لوٹنے والوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پیسے جمع کروانے سے جُرم ختم نہیں ہوجاتا۔

نیب کے حکام نے چیف جسٹس کی ہدایت کے باوجود اُن افراد کی فہرست ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کی جو نیب کی حراست میں ہیں تاہم اُن کے خلاف ریفرنس ابھی تک دائر نہیں ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد سٹاک ایکسچینج سکینڈل میں سینکڑوں افراد کی سات کروڑ سے زائد کی رقم ڈوب گئی تھی۔