مولانا صوفی کے بیٹوں کی رہائی کا حکم

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پشاور ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے ٹھوس ثبوت فراہم نہ کرنے پر مولانا صوفی محمد کے تین بیٹوں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔
ان تینوں کو بائیس جولائی کو پشاور سے تین ایم پی او ( نقص امن میں خلل ) کی دفعہ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
بدھ کے روز پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل خان نے حکومت کی جانب سے مولانا صوفی محمد کی تین بیٹوں رضوان اللہ، حیات اللہ اور فضل اللہ کی گرفتاری کے حوالے سے ٹھوس ثبوت فراہم نہ کیے جانے پر تینوں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے پشاور کے علاقے سٹی ٹاؤن میں واقع مولانا صوفی محمد کے گھر پر چھاپہ مارا تھا اور انہیں ان کے بیٹوں سمیت حراست میں لے لیا تھا۔
مولانا صوفی محمد کے تینوں بیٹوں نے اپنی گرفتاری کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھاتھا۔
اسی ماہ تین اگست کو صوبہ سرحد کی حکومت نے کالعدم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد سمیت نو افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا۔سرحد حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین نے کہا تھا کہ مولانا صوفی محمد نے حکومت سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کیا جس سے مالاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردوں کو تقویت ملی۔


















