قومی مالیاتی کمیشن کا اعلان تیس ستمبر کو

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وفاقی حکومت کے مطابق ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کا اعلان تیس ستمبر تک کیا جائے گا اور اس وقت یہی کوشش ہے کہ تمام صوبوں کو سنا جائے۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے آج اسلام آباد میں پہلے روز نیشنل فنانس کمیشن کے اجلاس کی صدارت کے بعد صحافیوں کو بتایا ہے کہ وسائل کی تقسیم کا فارمولا طے کرنے کے لیے تمام صوبوں کے مطالبات سنے گئے ہیں اور اب ایجنڈے میں تین مزید نکات شامل کر لیے گئے ہیں جن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبوں کے اخراجات پر بھی بحث ہوگی۔ یہ اجلاس کل یعنی جمعہ کے روز بھی ہوگا ۔
شوکت ترین نے بتایا کہ اسلام آباد کے بعد این ایف سی کے اجلاس کوئٹہ ، پشاور ، کراچی اور لاہور میں بھی ہوں گے اور ان کی کوشش ہو گی کہ فارمولا متفقہ طور پر تیس ستمبر تک طے کر لیا جائے لیکن اگر اس میں مزید وقت لگا تو دیکھیں گے لیکن کوشش یہی ہے کہ یہ احسن طریقے سے طے کر لیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ تمام معاملات کے حوالے سے ذیلی کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں تاکہ وقت کے ضیاع کو بچایا جا سکے۔
صوبائی وزراء کے مطابق آج کے اجلاس میں ایجنڈا طے کیا گیا ہے جس پر آئندہ بحث کی جائے گی۔ بلوچستان کے وزیر خزانہ عاصم کرد گیلو کے مطابق بلوچستان کو پچھلے فارمولے کے تحت وسائل میں سے صرف دو فیصد حصہ دیا گیا ہے تو اس سے صوبہ ترقی تو دور کی بات اپنے اخراجات بھی پورا نہیں کر سکتا۔
انھوں نے کہا کہ سابق ایوارڈ میں بلوچستان کو کل تیرہ سو ساٹھ بلین روپے میں سے کوئی سینتالیس بلین روپے دیے جا رہے ہیں تو اس سے کیا خاک ترقی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں انہوں نے وفاقی حکومت اور صوبائی وزراء سے کہا کہ وہ ہی انھیں سمجھا دیں کہ بلوچستان کو کس طرح دوسرے صوبوں کے برابر لایا جا سکتا ہے۔
عاصم کرد نے کہا کہ صرف آبادی ہی نہیں بلکہ رقبہ اور پسماندگی کو بھی فارمولے میں شامل کیا جائے اور گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت کے کوئی ایک سو ستر بلین روپے دینے ہیں۔
سندھ کے وزیراعلٰی نے اس اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کی کوشش ہو گی کہ یہ فارمولا خوش اسلوبی سے طے کیا جائے۔ پنجاب کے وزیر خزانہ تنویر کارہ نے بتایا کہ پنجاب سے وفاق اور صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم کے حوالے سے نکات اٹھائے ہیں اور انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبوں کو پچاس فیصد سے زیادہ حصہ دیا جائے۔
صوبہ سرحد کے وزیر خزانہ ہمایوں خان نے کہا ہے کہ انھیں کھلے دل سے سنا گیا ہے اور آج ایجنڈے میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے صوبے کے اخراجات اور ہائیڈل پاور جنریشن کے نکات شامل کر لیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ سرحد کے پرائیویٹ ممبر سینیٹر حاجی عدیل نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ صوبہ سرحد کے پاس پانی ہے لیکن اس کے استعمال کے لیے وسائل نہیں دیے گئے جیسے نہریں وغیرہ دیگر صوبوں میں قائم ہیں سرحد میں نہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ صوبے سرحد کے اس پانی پر آبیانہ اور مالیہ وصول کرتے ہیں لیکن سرحد کو کچھ نہیں دیتے تو اس پر انھوں نے آج اجلاس میں بات کی ہے اور انیس سے بیانوے سے اب تک یہ رقم کوئی انچاس ارب روپے بنتی ہے لیکن اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔
سابق دور میں این ایف سی ایوارڈ کا اعلان جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تمام صوبوں سے اختیارات لے کر کر دیا تھا۔ پرویز مشرف کے دور میں یہی کہا گیا تھا کہ چھوٹے صوبوں کو زیادہ سے زیادہ وسائل دیے جائیں گے لیکن بلوچستان کو اس کے حصے سے کم وسائل دیے گئے۔ اور جو وسائل دیے گئے اس میں سے ایک بڑا حصہ فرنٹیئر کور کو صوبے میں آپریشن کرنے کی مد میں دیا گیا۔






















