خیبر ایجنسی: پانچ مغویوں کی لاشیں برآمد

سوات لاش
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں کا تعلق ملک دین خیل قبائل سے ہے جو لشکر اسلام کے مخالفین بتائے جاتے ہیں
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق پانچ افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گلا کاٹ کے ہلاک کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق دو دن پہلے نامعلوم مُسلح افراد نے ان کو باڑہ کے مختلف علاقوں سے اغوا کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں دو میڈیکل سٹور کے مالک، ایک خاصہ دار فورس کے اہلکار اور دو عام شہری شامل ہیں۔

خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ سے موصول ہونے والی اطلاعات میں پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ لاشیں جمعہ کو باڑہ کے مغرب میں ملک دین خیل کے علاقے کویائی چوک سے ملی ہیں۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق ملک دین خیل قبائل سے ہے جو لشکر اسلام کے مخالفین بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے سے لشکر اسلام کے رضاکار اپنے مخالفین کو پکڑنے کے بعد ہلاک کر دیتے ہیں۔ لیکن اس واقعہ کی ابھی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے لاشیں ملک دین خیل کے علاقے میں پھینک دی تھیں۔ لاشوں کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ دوپہر تک لاشوں کو نہیں اٹھایا جائے۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں محمد رفیق، نورخان، تاج محمد، سید والی اور خاصہ دار فورس کے اہلکار مصری خان شامل ہیں۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں چار سال پہلےحالات اس وقت انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے جب لشکر اسلام اور انصارالاسلام کے درمیان مذہبی تنازعہ شروع ہوگیا تھا۔

دوسری طرف مہمد ایجنسی کے علاقے پشت میں مہمند ایجنسی کی امن کمیٹی کے رہنما مناسب خان سمیت چھ افراد بارودی سرنگ کے دھماکے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو باجوڑ کے صدر مقام خار کے سول ہسپتال لے جایا گیا ہے۔