ہالیجی زندہ ہوگئی

ہالیجی جھیل
،تصویر کا کیپشنپانی کی کمی کی وجہ سے ہالیجی جھیل میں پرندوں کی آمد کا سلسلہ کم ہوگیا ہے
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد
  • وقت اشاعت

حکومت سندھ نے ٹھٹھہ ضلع میں پرندوں کی جنت کےنام سے مقبول ہالیجی جھیل کو تازہ پانی کی فراہمی شروع کردی ہے۔ محکمہ جنگلی و آبی حیات کے ماہرین کو توقع ہے کہ پانی کی فراہمی کے بعد تباہ شدہ جھیل دوبارہ ملکی و غیرملکی پرندوں کی آماجگاہ اور سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن سکے گی۔

کراچی سے اسی کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہالیجی جھیل کے بارے میں محکمہ جنگلی حیات سندھ کے سربراہ کنزرویٹر حسین بخش بھاگت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہالیجی جھیل کو بحال رکھنے کے لیے اٹھائیس فٹ پانی درکار ہوتا ہے اور حکومت سندھ کی حالیہ کوششوں کے بعد اب تک انیس فٹ پانی جھیل میں جمع ہوچکا ہے۔

ہالیجی جھیل کو کراچی واٹر بورڈ کے زیرانتظام جام برانچ نامی کینال سے پانی فراہم ہوتا رہا ہے جو ضلع ٹھٹھہ میں واقع ایک اور جھیل کینجھر سے پانی حاصل کرتا ہے مگر گزشتہ چند برسوں سے جھیل کو پانی کی اس طرح فراہمی کا سلسلہ بند ہوگیا تھا۔

پانی کی کمی کی وجہ سے ہالیجی جھیل میں پرندوں کی آمد کا سلسلہ کم ہوگیا ہے۔ حسین بخش کے مطابق ان کےمحکمے کے انیس سو چہتر میں کیے گئے ایک سروے کےمطابق ہالیجی جھیل پر اندرون ملک اور بیرون ملک سے دو لاکھ پرندوں کی آمد ہوئی ہے جس میں ستر یا اسی قسم کے مختلف رنگ و نسل کے پرندے شامل ہیں مگر پانی کی کمی کی وجہ سے گزشتہ سال ان کےمحکمے کے سروے کے مطابق بمشکل آٹھ سے دس ہزار دیسی پرندوں کی آمد ہوئی ہے۔

ہالیجی جھیل کےبارے میں محکمہ جنگلی حیات کی کتابوں میں درج ہے کہ برطانوی راج کے دوران ہالیجی جھیل کو پانی جمع کرنے کی جگہ بنایا گیا تاکہ کراچی میں کیمپ کرنے والے دستوں کو پانی فراہم کیا جاسکے۔ پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی ہالیجی جھیل پانی جمع کرنے والے تالاب سے بڑھ کر ایک مکمل جھیل کی شکل اختیار کرچکی تھی۔

ون یونٹ کے خاتمےکےبعد ہالیجی کا انتظام وائلڈ لائف مینیجمنٹ فنڈ نے سنبھالا۔ایران میں انیس سو اکہتر کے دوران عالمی کنزرویشن مینجمنٹ کی جانب سے ویٹ لینڈ کی فہرست بنائی گئی۔ جس کے تحت ہالیجی کو پاکستان کی پہلی ’رامسر‘ سائٹ قرار دیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے صوبائی سربراہ حسین بخش بھاگت کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے ہالیجی جھیل ایک چراگاہ میں بدل گئی تھی جہاں مختلف اقسام کے جنگلی گھاس اگ آئی تھی۔ پرندوں کی آمد اور مچھلی کی افزائش تقریباً ختم ہوچکی تھی۔

بھاگت پرامید ہیں کہ پانی کی مسلسل فراہمی کے بعد آئندہ چند مہینوں میں ہالیجی جھیل دوبارہ ملکی و غیرملکی پرندوں کی آماجگاہ بن جائیگی۔

برطانوی شاہی خاندان کے ایک رکن ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ نے انیس سو چھہتر میں ہالیجی جھیل کا دورہ کیا تھا اور مختلف اقسام کے پرندوں کی بڑی تعداد دیکھ کر انہوں نے ہالیجی کو پرندوں کی جنت قرار دیا تھا۔

حسین بخش سمیت محکمہ جنگلی حیات کے ارکان کو امید ہے کہ ہالیجی جھیل دوبارہ پرندوں کی جنت بننے جا رہی ہے۔