چمن: پاک افغان سرحد کھل گئی

- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
چمن میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد دو دن بندہونے کے بعد پیر کے روز دوبارہ کھل گئی ہے۔
اس سلسلے میں کوئٹہ میں ایف سی کے تر جمان مرتضٰی بیگ نے پیر کے روز سرحد کھل جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سرحد افغان حکومت اور ڈرائیوروں کی جانب سے بند ہوئی تھی اور پیر کو انہوں نے خود ہی کھول دی ہے۔ تاہم ایف سی اسلحہ، منشیات اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے حسب سابق افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے ہر ٹرک کی سختی سے تلاشی لے رہی ہے۔
افغانستان سے انگور اور خربوزے پاکستان لانے والے ٹرک ڈرائیوروں کی جانب سے سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز یعنی فرنٹیئر کور کی جانب سے ٹرکوں کی تلاشی لینے کے بہانے خالی کرانے کے بعد دوبارہ لوڈ کرنے جیسے اقدامات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دو دن سے پاک افغان سرحد مکمل طور پر بند رکھی تھی۔ اس بندش کے باعث نہ صرف سرحد کے دونوں جانب سینکڑوں کی تعداد میں کنٹینرز اور آئل ٹینکر رک گئے تھے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان عام لوگوں کی آمدورفت بھی متاثرہوئی تھی۔
اتوار کو بعض نامعلوم افراد نے چمن کے قریب پاکستانی حدود میں بیس سے زیادہ کنٹینروں اور آئل ٹینکروں کو فائرنگ کے بعد بم دھماکوں سے تباہ کردیا۔ تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یاد رہے کہ تباہ ہونے والے زیادہ تر کنٹینرز اور آئل ٹینکر کراچی کی بندرگاہ سے افغانستان میں نیٹو افواج کے تیل اور دیگر فوجی سازو سامان سے لدے ہوئے تھے جو بلوچستان کے راستے افغانستان جا رہے تھے۔ اس سے قبل بھی اگست میں پشین میں یارو کے مقام پر بعض نامعلوم افراد نے نیٹو افواج کے لیے تیل اور فوجی سازوسامان لے جانے والے پانچ کنٹینروں کوتباہ کیا تھا لیکن اس واقعہ کی بھی کسی نے ذمہ داری تاحال قبول نہیں کی ہے۔


















