’کردار کشی بند ورنہ بھرپور جواب دیں گے‘

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
- وقت اشاعت
مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے پیپلز پارٹی کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کی جماعت اور ان کے قائد میاں نواز شریف کے خلاف میڈیا میں جاری کردار کشی کی مہم اڑتالیس گھٹنے کے اندر بند نہ کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے۔
یہ بات انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
تاہم پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مختلف ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون جو کرنا چاہتی ہے کر لے اور اسے اڑتالیس گھنٹے انتظار کی ضروت نہیں ہے۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ایوان صدر مسلم لیگ نون کی کردار کشی میں ملوث نہیں ہے انہوں نے مسلم لیگ نون کو کہا کہ وہ بلاثبوت ایسے الزامات لگانےسے گریز کرے۔
احسن اقبال نے الزام لگایا کہ نواز شریف کی کردار کشی کی مہم چلانے والی ٹرائیکا میں ایوان صدر، لندن میں بیٹھی ایک شخصیت اور ریٹائرڈ جنرل پرویز شامل ہے۔
مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کو ان دنوں میڈیا میں ایسے لزامات کاسامنا ہے جو پاکستانی خفیہ عسکری سکیورٹی ایجنسیوں میں اعلی عہدوں پر تعینات رہنے والے چند ایک ریٹائرڈ فوجی افسروں نے لگائے ہیں۔
ان پر ایک الزام بے نظیر کے پہلے دور حکومت میں آئی ایس آئی سے رقم لینے کا ہے۔دوسرا بڑا الزام خود نوازشریف کی پہلی وزارت عظمی کے دور میں ایم کیو ایم پر پاکستان توڑنے کی سازش کا مبینہ جھوٹا الزام لگاکر اس کے خلاف آپریشن کرنے کا ہے۔
مسلم لیگ نون کےسیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف کی حالیہ کردار کشی مہم کا مقصد حکومت کی کرپشن پر پردہ ڈالنا اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو بغاوت کے مقدمے سے بچانا ہے۔انہوں مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آجانے کے بعد اب سابق صدر پرویز مشرف کو کٹہرے میں کھڑا جائے اور ان کے خلاف آئین توڑنے کے الزام میں آرٹیکل چھ کے تحت بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے۔
انہوں نے کہا سٹیل ملز میں مبینہ کرپشن پر محض چیئرمین کو تبدیل کرنا کافی نہیں ہے اس پر ایکشن لیا جائے۔چینی کی قمیتموں میں اضافہ کے سکینڈل کو منظر عام پر لایا جائے اور پاکستان کے قومی ادارے پی آئی اے میں سے صدر آصف زرداری کے دوستوں کو نکال کر پیشہ ور لوگوں کے حوالے کیا جائے تاکہ اس کا خسارہ ختم ہوسکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں چاہیے کہ وہ اپنے پیچھے مڑ کر دیکھیں کہ ان کی کوششوں کو کون سبوتاژ کررہا ہےاگران کے خلاف سازش ہورہی ہے تو وہ اسے بے نقاب کریں۔انہوں نے کہا اب وزیر اعظم کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا درست اور کیا غلط ہے؟
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے ترجمانوں سے یہ الگ الگ یہ سوال بھی کیا گیا کہ حالیہ سیاسی کشیدگی کے ذریعے پاکستان میں کہیں نئے مارشل لاء کی راہ تو ہموار نہیں کی جارہی؟دونوں کاجواب ایک ساتھا کہ اس کا کوئی امکان نہیں ہے اور اگر ایسا ہوا تو تمام جمہوری قوتیں اختلافات بھلاکر فوجی آمریت کا راستہ روکیں گی۔






















