بلوچستان میں ایک اور سیاسی قتل

بلوچستان کے علاقے بیلہ سے ایک اور قوم پر ست رہنماء اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل رسول بخش مینگل کی لاش ملی ہے جنہیں ایک ہفتہ قبل بعض نامعلوم افراد نے اوتھل سے اغواء کیا تھا۔
بلوچ قوم پرستوں نے رسول بخش بلوچ کے قتل کا الزام پاکستان کے خفیہ اداروں پر عائد کرتے ہوئے منگل کو صوبہ بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیرکے روز کراچی سے ملحقہ بلوچستان کے شہر بیلہ کے قریب آر سی ڈی شاہراہ پر قلندری ہوٹل کے پاس بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل رسول بخش مینگل کی مسخ شدہ لاش ملی۔
بیلہ پولیس کے مطابق رسول بخش مینگل کوچند روز قبل نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔ رسول بخش مینگل کو تیس اگست کو اوتھل سے نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا لیکن بلوچ وطن موومنٹ کے رہنماء غلام اللہ بلوچ نے اس کی ذمہ داری پاکستان کے خفیہ اداروں اور سیکورٹی فورسز پر عائد کر تے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر یورپی ممالک سے اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لیکر بلوچوں کی نسل کشی روکنے کے لیے اقدامات کرئے۔
رسول بخش بلوچ کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی ان کے آبائی شہر خضدار میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی ہے جبکہ مشکے میں مشتعل مظاہرین نے شہر کو بند کر کے احتجاجاً نادرہ آفس، پولیس تھانہ اور ایک مقامی بنک اور دیگرسرکاری املاک کونذر آتش کردیا۔
دوسری جانب بلوچ نیشنل فرنٹ نے رسول بخش مینگل کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کل پورے صوبے میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤ ن ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ بلوچ بارایسوسی ایشن نے منگل کو صوبہ بھرمیں عدالتوں کے بائیکاٹ کرنے کااعلان کیا ہے۔
رسول بخش مینگل خضدار کے رہنے والے تھے اور زمانہ طالب علمی سے بلوچستان کی سیاست سے وابستہ تھے۔ ان کے پانچ بچے ہیں جنہوں نے گزشتہ روز خضدار میں ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ ان کے والد کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اغواء کیا ہے۔
جب کہ دوماہ سے خضدار کے تحصیل دڈھ سے ایک مقامی ڈاکٹر دین محمد بلوچ لاپتہ ہیں۔ بلوچ نیشنل فرنٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں بھی خفیہ ایجنسیاں ہلاک کر دیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ اس سے قبل جب تین اپریل کو تربت کے علاقے پداگ سے بلوچ نیشنل پارٹی کے سربراہ غلام محمد بلوچ، شیرمحمد بلوچ اور لالا منیر کی لاشیں ملی تھیں اس کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پرتشدد واقعات میں ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی تیزی آئی تھی جوتاحال جاری ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں فرنٹیئر کور کی تعیناتی کے باوجود اس میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ صرف ماہ اگست میں چالیس سے زیادہ افراد کوئٹہ اور صوبے کے دیگر شہروں میں ٹارگٹ کلنگ کاشکار ہوے ہیں۔






















