قومپرست رہنما کا قتل: بلوچستان میں ہڑتال

کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنبی این ایف کے کارکنوں نے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بندکر دی تھی
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

بلوچستان میں ایک اور قوم پر ست رہنماء اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل رسول بخش مینگل کی لاش پیر کے روز ملی ہے جنہیں ایک ہفتہ قبل بعض نامعلوم افراد نے اوتھل سے اغواء کیا تھا۔

بلوچ نیشنل فرنٹ کی اپیل پر بلوچستان کے بڑے شہروں خضدار مشکے، تربت مند، گوادر، قلات، حب اور بیلہ میں مکمل طور پر شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوئی ہے جبکہ کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں دوکانیں بند رہیں۔

<link type="page"><caption> بلوچستان میں ایک اور سیاسی قتل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090831_baloch_killed.shtml" platform="highweb"/></link>

رسول بخش مینگل کی ہلاکت کے خلاف بلوچستان کے زیادہ تر حصوں میں منگل کے روز پہیہ جام اور شٹرڈاؤ ن ہڑتال ہوئی۔

بلوچ نیشنل فرنٹ کی اپیل پر بلوچستان کے بڑے شہروں خضدار مشکے، تربت مند، گوادر، قلات، حب اور بیلہ میں مکمل طور پر شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوئی ہے جبکہ کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں دوکانیں بندرہیں۔ تاہم شہرکے مرکزی علاقے میں دوکانیں اور کاروباری مراکز کھلے رہے۔

اس موقع پر صوبائی حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

بی این ایف کے کارکنوں نے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بندکر دی اور مشکے اواران میں مشتعل مظاہرین نے سرکاری املاک کونقصان پہنچایا۔ مند میں فرنٹیئر کورکی جانب سے احتجاجی جلوس کو روکنے کے دوران لاٹھی چارج میں پانچ خواتین کے زخمی ہونے کے اطلاع ہے۔ اسی طرح حب اور تربت میں زبردستی دوکانیں اور احتجاج کرنے کے الزام میں پولیس نے درجنوں افراد گرفتار کیے ہیں۔ کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان مرتضٰی بیگ نے خواتین پر تشدد کے الزامات کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ عصاء ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پورے بلوچستان میں رسول بخش بلوچ کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال رہی اور تین دن تک سوگ منانے کاسلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ رسول بخش منگل کو تیس اگست کو بلوچستان کے علاقے اوتھل سے پاکستان کے خفیہ اداروں نے اغواءکیا تھا لیکن پرسوں رات ان پر تشدد کر کے قتل کر کے ان کی لاش درخت سے لٹکا دی گئی اور ان کے جسم پر تشدد اور سگریٹ سے جلانے کے نشانات تھے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ اسی طرح کے واقعات سے بلوچ اب آزادی کے نعرے لگا رہے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کو شائد معلوم نہیں ہے کہ بلوچستان میں کتنی تیزی سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف فرنٹیئر کور نے ناکہ بندیاں کی ہیں اور دوسری جانب لوگ آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ یہاں اسلام آباد میں حکمران غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حالات اس طرح نہیں سدھارے جا سکتے بلکہ جب تک صوبے میں سارا اختیار سول حکمرانوں کو نہیں دیا جاتا اور ترتیب وار طریقے سے پیش رفت نہیں کی جاتی حالات خراب ہی رہیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں نفرتیں انتہائی شدت اختیار کر چکی ہے جس کے لیے حکومت کو اب عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

یاد رہے کہ پیرکے روز کراچی سے ملحقہ بلوچستان کے شہر بیلہ کے قریب آر سی ڈی شاہراہ پر قلندری ہوٹل کے پاس بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل رسول بخش مینگل کی مسخ شدہ لاش ملی تھی۔