’بوڑھے بریگیڈیئر یا جھوٹ کی فیکٹری‘

بریگیڈیئر(ر)امتیاز کےمطابق رفیق کی گرفتاری پر فوجی حکمران جنرل ضیاء نے انہیں ستارہ رسالت دیا تھا
،تصویر کا کیپشنبریگیڈیئر(ر)امتیاز کےمطابق رفیق کی گرفتاری پر فوجی حکمران جنرل ضیاء نے انہیں ستارہ رسالت دیا تھا
    • مصنف, نثار کھوکر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کے ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور جنرل ضیاء کی مارشل لاء کے اسیر رفیق احمد صفی منشی نے کہا ہے کہ وہ بریگیڈیئر(ر) امتیاز کے ان الزامات کی پندرہ مرتبہ تردید کرچکے ہیں جن میں وہ انہیں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیا گیا تھا۔

رفیق صفی منشی کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ بریگیڈیئر یا تو بوڑھے ہوچکے ہیں یا ان کے پاس جھوٹ کی فیکٹری ہے جو ختم نہیں ہو رہی ہے۔

بریگیڈیئر(ر)امتیاز نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ انہوں نے انیس سو اناسی میں جب وہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سندھ کے سربراہ تھے، کراچی یونیورسٹی کے ایک سابق گریجویٹ رفیق منشی کو آپریشن رائزنگ سن کے دوران گرفتار کیا تھا۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ رفیق منشی سی آئی ای کے لیے کراچی کے جوہری ادارے کانپ میں کام کررہے تھے۔ ان کے مطابق وہ پاکستان کے جوہری راز امریکی خفیہ ادارے سی آئی ای کے حوالے کرنے والے تھے۔ بریگیڈیئر(ر)امتیاز کےمطابق رفیق کی گرفتاری پر فوجی حکمران جنرل ضیاء نے انہیں ستارہ رسالت دیا تھا۔

رفیق صفی منشی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ وہ کبھی کراچی یونیورسٹی میں زیرتعلیم نہیں رہے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو، لندن اور امریکا سے ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی کانپ نامی جوہری ادارے کے ملازم نہیں رہے ہیں بلکہ انہوں نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کی ای ایس سی میں ملازمت کی تھی جہاں سے ان کو گرفتار کیا گیا۔

رفیق صفی دو سال قبل کراچی پورٹ ٹرسٹ سے اکیس گریڈ کے افسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ کراچی میں اپنی ایک بیٹی اور بیرسٹر بیوی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

رفیق صفی کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر امتیاز جو آجکل راز فاش کرنے کے داعی ہیں وہ ان کے تین سوالوں کے جواب دیں کہ وہ راز کہاں سے آئے، رفیق نے کس کو دیئے اور وہ راز تھے کیا؟ انکےمطابق اگر امتیاز نے ان سوالوں کے جوابات نہیں دیئے تو وہ خود دستاویزات عدالتوں کے سامنے پیش کریں گے جن سے معلوم ہوگا کہ وہ اور انکے سربراہ جنرل ضیاء امریکی ایجنٹ تھے یا نہیں۔

ماضی کی مارشل لاء کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ہے کہ انہیں بارہ دسمبر انیس سو اناسی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی سالگرہ کے سلسلے میں کچھ ڈرنکس لینے بازار گئے تھے۔ رفیق صفی کےمطابق اس وقت مارشل لا کے دن تھے اور خفیہ ایجنسیوں کے تشدد کی دکان کھلی ہوئی تھی۔انہیں خفیہ قید خانوں میں وہاں رکھا گیا جہاں کمیونسٹ رہنماء جام ساقی اور دیگر کو رکھا گیا تھا۔

رفیق صفی کے مطابق ان دنوں بریگیڈیئر(ر)امتیاز نے عالمی ایجنسیوں کی دکان کھول رکھی تھی اور بائیں بازو کے تمام رہنماؤں کو وہ غیرملکی ایجنٹ قرار دیکر گرفتار کر رہے تھے۔جام ساقی روس کے ایجنٹ قرار دیئے گئے، وہ خود امریکہ کے اور رسول بخش پلیجو چین کے ایجنٹ قرار دیئے گئے تھے اور ان دنوں تمام قیدی ایک دوسرے کو سپر پاورز کے قیدی کہہ کر پکارتے تھے۔

رفیق صفی کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف برسوں سے جاری خفیہ ایجنسیوں کی تمام مہم کے باوجود انہیں اکیس گریڈ میں ترقی دی گئی۔جنرل مشرف نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سربراہ وائس ایڈمرل احسن حیات کی بریفنگ پر غور نہیں کیا اور انہیں ترقی دی۔