چینی بحران: عدالت عالیہ کی ہدایت

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
- وقت اشاعت
لاہور ہائی کورٹ نے حکومت پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں چینی چالیس روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کی جائے اور کہا ہے کہ حکومت ذخیرہ کی گئی چینی کو برآمد کرنے میں پوری طرح آزاد ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے دورکنی بنچ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں تمام سستے بازاروں اور کھلے بازار میں چینی یکساں قیمت یعنی چالیس روپے کلو میں فروخت کی جائے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نے چینی کے بحران کے ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت شروع کی تھی۔
تازہ عدالتی فیصلے سے پہلے حکومت نے خصوصی سستے بازاروں میں چینی کی فی کلو قمیت سینتالیس روپے مقرر کررکھی تھی جبکہ اوپن مارکیٹ میں یہ پچپن سے ساٹھ روپےکلو تک فروخت ہورہی ہے۔
جمعرات کو دورکنی بنچ کے روبرو شوگر ملزایسوسی ایشن کے وکیل نے پیش ہو کر اپنا موقف پیش کیا اور کہا کہ چینی کے بحران کی ذمہ داری ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان یعنی ٹی سی پی پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کارپوریشن نے سات لاکھ ٹن چینی ذخیرہ نہیں کی اس کے علاوہ گنے کی پیدوار بھی کم ہوئی اور حکومت نے بھی گنا اسی کی بجائے ایک سو چالیس روپے من کے حساب سے خریدا۔ انہوں نے کہا کہ پیدوار کم ہونے پر حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ خام چینی برآمد کرلیتی لیکن یہ بھی نہیں کیا گیا۔
جسٹس اعجاز چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گنے کی کم پیدوار کی ذمہ دار شوگر ملیں ہیں جنہوں نے کاشتکار کو بروقت ادائیگی نہیں کی اور اس نے فصل کو کم کاشت کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹی سی پی نے سال دوہزار آٹھ اور نو میں چینی اٹھائیس روپے فی کلو کے حساب سے خریدی تھی اور وفاقی حکومت بھی یوٹیلیٹی سٹورز کو یہ چینی چھتیس روپے کلو قمیت پر فراہم کررہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو کہا کہ وہ تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینشن آفیسرز کو ہدایت کریں کہ چینی کی چالیس روپے فی کلو کی قیمت پر فروخت پر یقینی بنائیں۔
پنجاب کے وزیر خوراک ندیم کامران کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے اور چینی کے قمیت ہائی کورٹ کے فیصلے مطابق کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
ادھر شوگر ملز ایسوسی ایشن پنجاب نے اس فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس تک طرفہ قرار دیا ہے۔مل مالکان کی اس صوبائی تنظیم کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔






















