’وزارت کے اہلکار ملوث ہو سکتے ہیں‘

حامد سعید کاظمی
،تصویر کا کیپشنہوسکتا ہے کہ حامد سعید کاظمی کے دفتر کے کسی اہلکار کا تعلق شدت پسندوں کے ساتھ ہو: رحمان ملک
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ مذہبی امور کے وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں اُن کے دفتر کا کوئی اہلکار ملوث ہو۔

دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے سربراہ کلیم امام کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس مقدمے میں چھ مشکوک افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے اس مقدمے کے حوالے سے کافی معلومات ملی ہیں۔

قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کی عیادت کے بعد جمعرات کے روز میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ٹارگٹ کیے جانے والے شخص کے بارے میں اُس کا کوئی قریبی بندہ حملہ آوروں کو مطلع کرتا ہے جس پر حملہ آور کارروائی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ حامد سعید کاظمی کے دفتر کے کسی اہلکار کا تعلق شدت پسندوں کے ساتھ ہو۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حامد سعید کاظمی نے بُلٹ پروف گاڑی کے حصول کے لیے درخواست دی تھی لیکن حکومت کے پاس صرف آٹھ بُلٹ پروف گاڑیاں ہیں جو وی وی آئی پیز کے لیے استعمال ہوتی ہیں

رحمان ملک نے دعوٰی کیا کہ اُن کے استعمال میں جو بُلٹ پروف گاڑی ہے وہ اُن کی ذاتی ملکیت ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے نئی بُلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کو سکیورٹی فراہم کرنا کابینہ ڈویژن کی ذمہ داری ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مذہبی امور کے وفاقی وزیر کو دو سیکورٹی گارڈز فراہم کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو جائے حادثہ کے قریب سے دو پستول، ایک کلاشکوف اور ایک کالا بیگ ملا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ کیلم امام کا کہنا ہے کہ پولیس نے وفاقی وزیر پر ہونے والے حملے کے مقدمے میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان سے اس مقدمے کے حوالے سے کافی معلومات ملی ہیں اور بہت جلد اس واقعہ میں ملوث ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا۔

پولی کلینک ہسپتال کے باہر جہاں پر حامد سعید کاظمی زیر علاج ہیں، میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کی مدد کچھ مقامی افراد نے کی ہے جن کی تلاش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس جگہ پر وفاقی وزیر کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی وہ علاقہ ہائی سیکورٹی کےعلاقے میں آتا ہے اور اس علاقے میں اسلحہ کی موجودگی تشویش ناک ہے جس کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے گذشتہ تین ماہ کے دوران چھیالیس شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے اور اگر یہ شدت پسند اپنے عزام میں کامیاب ہوجاتے تو بڑا نقصان ہوتا۔

ایک سوال کے جواب میں کلیم امام نے کہا کہ جب بھی کسی وزیر کی نقل وحرکت ہوتی ہے تواُس سے پہلے مقامی انتظامیہ کو آگاہ کیا جاتا ہے جبکہ بعض اوقات اس کی اطلاع نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں کہ جب وفاقی وزیر دفتر سے نکلے تھے تو اُس میں کون سا طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے شہر میں کیے جانے والے سیکورٹی کے انتظامات کا از سرنو جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز نامعلوم مسلح افراد نے وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے اُن کا ڈرائیور ہلاک جبکہ اُن کا گن مین زحمی ہوگیا۔ اس حملے میں وفاقی وزیر کو ٹانگ پر گولی لگی تھی۔

پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے اور اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔