سسئی پلیجو کا ایک دیوانہ

- مصنف, نثار کھوکر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ سندھ کی خاتون صوبائی وزیرسسئی پلیجو نے کہا ہے کہ انہوں نے اس نوجوان افسر کی گرفتاری کی تاحال سفارش نہیں کی ہے۔ جنہوں نے ان سے اپنے پیار کےاظہار کے لیے ہزاروں ای میلز اور لہو سے لکھے گئے خط ارسال کیے تھے۔
سندھ حکومت نے صوبائی وزیر ثقافت سسئی پلیجو کی شکایت پر محکمہ زراعت کے ایک سترہ گریڈ کے افسر محمد الیاس کو معطل کردیا ہے۔جونیئر افسر معطلی کے بعد منظر سے غائب ہیں اور ان کا موبائل فون مسلسل بند مل رہا ہے۔ ان کے ورثا کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کی تحویل میں ہیں مگر صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے زرعی افسر کی گرفتاری کی سفارش نہیں کی ہے۔
صوبائی وزیر سسئی پلیجو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مختصر مدت میں انہیں مذکورہ زرعی افسر کی تین ہزار ای میلز موصول ہوئی ہیں۔جبکہ ان کے گھر کے پتے پر ایسے خطوط بھیجے گئے جو خون سے لکھے گئے تھے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ان خطوط اور ای میلز میں محمد الیاس نے جنونی کیفیت میں لکھا ہے کہ’سسئی میرا مالک ہے،سسئی میرا مرشد ہے اور میرا عشق ہے وغیرہ۔‘
زرعی افسر محمد الیاس صوبائی وزیر سسئی پلیجو سے یکطرفہ عشق میں اتنے محو ہوگئے کہ انہوں نے شہر کے ہر اس پروگرام میں شرکت کی جہاں سسئی مدعو ہوتی تھیں۔حالیہ دنوں انہوں نے صوبائی وزیر کے دفتر میں جاکر ان سے کہا کہ وہ روزانہ ایک سو ای میلز انہیں کرتے ہیں کم از کم انہیں ایک جواب تو دیا کریں۔
صوبائی وزیر کے عملے نے محمد الیاس کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا اور صوبے کے چیف سیکرٹری سے شکایت کی گئی۔ جن کی ہدایت پر انہیں نوکری سے معطل کردیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر سسئی پلیجو کا کہنا ہے کہ وہ ان کو اپنے بھائیوں اور ملازموں سے پٹواسکتی تھیں۔انہیں گرفتار کرواسکتی تھیں مگر انہوں نے ایسا کرنے سےگریز کیا کیونکہ وہ کسی کو بیروزگار کرنا نہیں چاہتی ہیں۔
صوبائی وزیر سسئی پلیجو ساحلی ضلع ٹھٹہ سے ایک جنرل نشست پر انتخابات جیت کر رکن سندھ اسمبلی بنی ہیں۔ان کا تعلق حکمران جماعت پیپلزپارٹی سے ہے۔ جبکہ بائیں بازو کے رہنماء رسول بخش پلیجو ان کے چچا ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زرعی افسر کی معطلی سے قبل سسئی پلیجو کی شکایت پر کراچی کے امیر علاقے کے چوراہے اور فوڈ کارنر بوٹ بیسن سے ایسے نوجوانوں کو گرفتار کیاگیا تھا جنہوں نے موبائل اور ای میلز پر سسئی پلیجو کوتنگ کر رکھا تھا۔
سندھ میں پانچ خواتین وزیر اور ایک خاتون مشیر ہیں۔ سسئی پلیجو کی ایک ساتھی وزیر شازیہ مری کو گزشتہ مشرف دور میں ایک رکن اسمبلی نے چٹھی لکھی تھی۔ شازیہ مری سندھ کی وزیراطلاعات ہیں مگر جب وہ گزشتہ دور حکومت میں حزب اختلاف میں تھیں۔
شازیہ مری نے اسمبلی فلور پر ایک ناشائستہ چٹھی کی شکایت کی تھی۔ بعد میں شازیہ کی جماعت پیپلزپارٹی کے بعض ارکان اسمبلی کی چٹھی لکھنے والے رکن اسمبلی ایشور لال سے ہاتھاپائی ہوگئی تھی۔






















