’کاظمی حملہ آور وہاں کیسے پہنچے‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے واقعہ کی تحقیقات کےحوالے سےمتعدد تفتیشی ٹیمیں کام کر رہی ہیں لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ حملہ آور ایک اتنے سخت حفاظتی علاقے میں داخل کیسے ہوئے اور پھر واردات کےبعد فرار ہونے میں کیسے کامیاب ہوئے۔
اس واقعہ میں زخمی ہونے والے وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ اُنہیں مختلف شدت پسند گروہوں کی طرف سے حملوں کا خطرہ تھا اس لیے اُنہوں نے صدر آصف زرداری سے سیکورٹی بڑھانے کا مُطالبہ کیا تھا۔صدر نے وفاقی وزیر کو رینجرز کا سکواڈ فراہم کرنے کے احکامات جاری کیےتھے لیکن صدر کے احکامات پر عملدرآمد نہیں کیاگیا تھا۔
رینجرز وزارت داخلہ کے ماتحت ہے اور وزیر داخلہ رحمان ملک صدر کے قریبی ساتھیوں میں تصور کیےجاتے ہیں۔ وزیر داخلہ بھی میدان میں کود پڑے اور اُن کا کہنا تھا کہ وزراء کی حفاظت کی ذمہ داری کابینہ ڈویژن کی ہے نہ کہ وزارت داخلہ کی۔
سابق آئی جی سندھ افضل شگری کا کہنا ہے کہ حملہ آور اگر وفاقی وزیر مذہبی امور کو ٹارگٹ نہ کرتے تو وہ کسی دوسری شخصیت کو ٹارگٹ کرتے جس میں کوئی وزیر یا اہم بیوروکریٹ ہوسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کا مقصد شہر میں عدم تحفظ کے احساس کو تقویت دینا تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے۔
اسلام آباد پولیس کے اعلی حکام اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ یہ واقعہ سیکورٹی انتظامات میں رہ جانے والی خامیوں کے باعث پیش آیا۔
آئی جی اسلام آباد سید کلیم امام کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر یہ واقعہ رونما ہوا وہ ہائی سیکورٹی زون میں واقع ہے اس لیے حملہ آور باہر سے نہیں آئے ہوں گے بلکہ یہ حملہ چند مقامی افراد کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے ارجنٹائن پارک میں پناہ لے رکھی تھی اور موقع پاکر وفاقی وزیر پر حملہ کردیا۔ یہ پارک پولی کلینک اور تھانہ آبپارہ کے درمیان واقع ہے جہاں پر پولیس اہلکاروں کے علاوہ پولی کلینک میں اپنے عزیزو اقارب کی خیریت دریافت کرنے والوں کا بھی رش رہتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر افراد کی اس پارک کی موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہے کہ حلمہ آور کلاشکوف اور دیگر اسلحہ لےکر پارک میں گھومتے رہے اور کسی نے اُن کا نوٹس ہی نہیں لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعہ پر مذہبی امور کی وزیر مملکت شگفتہ جمانی کا کہنا تھا کہ جس وقت حامد سعید کاظمی پر قاتلانہ حملہ ہوا تو وہ اُس وقت دفتر میں موجود تھیں اور انہوں نے فائرنگ کی آواز سُنی۔ اُن کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پولیس اہلکار جائے حادثہ پر نہیں پہنچا اور جب تک پولیس والوں کو اس بات کی تسلی نہیں ہوگئی کہ فائرنگ بند ہوچکی ہے اُس وقت تک وہ جائے حادثہ پر نہیں پہنچے۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ پندرہ منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ متعلقہ تھانے کی پولیس جو چند قدم کے فاصلے پر تھی اس واقعہ کے پچیس منٹ کے بعد جائے حادثہ پر پہنچی۔
ایس ایس پی آپریشن نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس کو ارجنٹائن پارک سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ابھی تک ’برآمد‘ ہونے والا اسلحہ اُسے نہیں دیا گیا تاکہ اس کا ذکر تفتیش میں کیا جاسکے۔ تھانہ تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او عبدالمجید نےارجنٹائن پارک سے ملنے والے اسلحے کے بارے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔
پولیس کے مطابق اس واقعہ میں چھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن تاحال ان افراد کو کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیاگیا۔ جبکہ قانون کے مطابق کسی بھی ملزم کو چوبیس گھنٹوں میں عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔
حامد سعید کاظمی جو پولی کلینک میں زیر علاج ہیں پولیس نے اس ہسپتال کی پارکنگ کو بند کرکے وہاں پر بیس سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کردیا ہے۔ پارکنگ بند ہونے کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ کادعویٰ ہے کہ انہوں نے گذشتہ تین ماہ کے دوران چھیالیس ’شدت پسندوں‘ کو گرفتار کیا ہے جبکہ قومی احستاب بیورو کے سابق ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ ان گرفتار ہونے والے ’شدت پسندوں‘ میں سے متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے درخواستیں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
پیشہ وارانہ مہارت کے حساب سے اسلام آباد پولیس بہت کمزور ہے اور وہ شاذ و نادر ہی اصل مجرموں تک پہنچ پائی ہے۔






















