’عالمی بحران دو ہزار تیس تک‘

غذائی بحران
،تصویر کا کیپشنبحران ایشیا، یورپ اور افریقہ کو لپیٹ میں لے سکتا ہے
    • مصنف, کرسٹین میگور ٹی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

برطانیہ کے ایک اعلیٰ سائنسدان نے بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کو ایک خطرناک طوفان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں دو ہزار تیس تک خوراک ، توانائی اور پانی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

لندن میں ’دیر پا ترقی‘ کے عنوان سے ہونے والی ایک کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر جوُن بیڈنگٹن نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار تیس تک دنیا کی آبادی آٹھ ارب تیس کروڑ تک پہنچ جائے گی جس کی وجہ سے خوراک اور توانائی کی مانگ میں پچاس فیصد اور صاف پانی کی مانگ میں تیس فیصد اضافہ ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ وسائل کی طلب میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے نتائج خطرناک ثابت ہونگے جبکہ غیر متوقع طور پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیاں مسائل کو شدید تر کر سکتی ہیں۔

پروفیسر جون نے کانفرس سے خطاب میں کہا کہ جس طرح ان دنوں دنیا ایک مالیاتی بحران کی زد میں ہے بلکل اسی طرح مستقبل میں خوراک ، پانی اور توانائی کا بحران آسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آنے والے بحران سے موجودہ نظام مکمل تباہ تو نہیں ہو گیا لیکن ابھی سے مسائل پر قابو پانے کی کوشش نہیں کی تو مستقبل میں معاملات تشویشناک حد تک مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

پروفیسرجوُن کے مطابق اقوام متحدہ نے پیشنگوئی کی ہے کہ دو ہزار پچیس تک پانی کی کمی کا بحران افریقہ، یورپ اور ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال تیل اور غذائی اجناس کی قمیتوں میں اضافے کی وجہ سے یہ معاملہ عالمی ایجنڈے پر تھا تاہم اب قیمتوں میں گراوٹ کی وجہ سے خدشہ ہے کہ خوراک ، پانی اور توانائی کا مسئلہ بین الاقوامی ایجنڈے سے غائب نہ ہو جائے۔

پروفیسر جون نے کانفرس سے خطاب میں کہا کہ متوقع بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ زراعت کے شعبے کو ترقی دیتے ہوئے غذائی اجناس کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ پانی کے ذخائر میں اضافہ اور ماحول دوست توانائی کا حصول لازمی ہے۔