ہیپاٹائیٹس کی وبا کا خطرہ

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ملک میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتی ہوئی خطرناک صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اس بیماری کے خلاف ایمرجنسی ایکشن پلان کا اعلان کیا ہے۔
منگل کو اسلام آباد میں وزارت صحت نے وزیر اعظم کا ایل بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہوئے ہیں اور یہ تعداد خطر ناک حد تک بڑھ رہی ہے۔
<link type="page"><caption> سندھ میں تیزی سے پھیلتا ہیپاٹائٹس </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2009/05/090519_hepatitis_sindh_aw.shtml" platform="highweb"/></link>
وزیراعظم کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد سے یہ بیماری دیگر لوگوں میں بھی پھیل رہی ہے اور تحقیقات کے مطابق سے یہ بیماری وبا کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم کے ایمرجنسی ایکشن پلان کے تحت وزارت صحت بیماری سے بچاؤ کے لیے ویکسین فراہم کرے گی۔
اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر رشید جمن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حال ہی میں تحقیقاتی ٹیم نے پچاس ہزار افراد کے خون کا ٹیسٹ کیا جس میں ساڑھے سات فیصد افراد اس مرض میں مبتلا پائے گئے ہیں۔
ڈاکٹر رشید جمن نے کہا ہے کہ اس مرض سے پاکستان کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے لیکن بلوچستان کے کچھ علاقے جہاں احتیاط نہیں برتی جاتی اور پنجاب سرحد اور سندھ کے مختلف علاقے اس سے متاثر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے نئے پروگرام میں زیادہ توجہ لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے پر دی گئی ہے۔
پاکستان میں ہیپاٹائٹس پروگرام کے منیجر ڈاکٹر جاوید نے کہا کہ وزیر اعظم کا ایک پروگرام پہلے سے جاری ہے لیکن اس وقت بیماری کی صورتحال اتنی تشویشناک نہیں تھی جتنی اب ہے۔
راولپنڈی میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے نیشنل کوارڈینیٹر ڈاکٹر جمال ناصر نے بتایا کہ یہ بیماری خوفناک صورتحال اختیار کر چکی ہے اور اس سے ہر بارہواں شخص متاثر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا آج سے دس اور پندرہ سال پہلے بڑی تعداد میں مریضوں کو انجیکشن لگانے کے لیے ایک ہی سرینج استعمال کی جاتی تھی اور اب ان مریضوں سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے ہی پاکستان کے تمام شہروں میں پچاس ہزار افراد کے خون کے نمونے حاصل کیے تھے اور ان کی تحقیق کے مطابق دس فیصد افراد اس مرض سے متاثر ہوئے ہیں اور یہ بیماری اب ایک وبا کی صورت اختیار کر رہی ہے۔

اس بیماری کے پھیلاو کی بنیادی وجوہات میں متاثرہ افراد کے استعمال شدہ سرینج، استرے یا ڈاکٹروں کے وہ آلات جو متاثرہ مریض کے علاج میں استعمال ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں ڈاکٹر فیض ہاشمی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئٹہ سمیت جھل مگسی نصیر آباد جعفرآباد سبی خضدار اور دیگر علاقے اس بیماری سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں ڈاکٹر اور ان کے خاندان کے افراد بھی اس بیماری سے محفوظ نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے پلان کے تحت ابتدائی طور پر ڈسپوزیبل سرینجز کا استعمال ختم کرکے استعمال کے بعد خود بخود ضائع ہوجانے والی سرینج کا اجرا کیا جارہا ہے اور اس کے علاوہ سارا طریقہ کار ڈیجیلائز کیا جا رہا ہے۔






















