چوہوں کے جنوم پر کامیاب تحقیق

سائنسدان دس سال کی کاوشوں کے بعد چوہوں کے جنوم ( کسی جسم کے مجرد لونیوں کا مجموعہ) کی مکمل ترتیب معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
دنیا بھر میں کئی لیباٹریوں میں چوہا سائنسدانوں کے تجربات کا مرکز رہا ہے تا کہ اس کے جنوم کی ترتیب دریافت کی جا سکے کیونکہ یہ تصور کیا جاتا تھا کہ اس کے جنوم کی ترتیب کی دریافت کئی انسانی بیماریوں کے علاج میں اہم ہو سکتی ہے۔
چوہے کا جینیاتی کوڈ پچھہتر فیصد تک انسانی جنیاتی کوڈ سے مماثلت رکھتا ہے اور اس کے بارے میں زیادہ معلومات بیماری کے علاج کے نئے طریقے دریافت کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
ایک عالمی سائنسی جریدے میں بین الاقوامی سائنسدانوں کی ٹیم نے اپنی اس نئی تحقیق کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔
یہ ترتیب خیلے کے مرکز میں موجود جینیاتی مواد کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتی ہے اور اسے عملاً جانوروں کے بارے میں رہنما اصولوں کا کتابچہ قرار دیا جا رہا ہے۔
چوہے انسانوں کے بعد وہ میمل یا گرم خون والے وہ حیوان ہیں جن کے جنوم کو کھول کر رکھا دیا گیا اور اس کی مکمل ترتیب معلوم کر لی گئی ہے۔
بندروں، کتوں، چھچوندروں اور پلیٹیپس کے جنوم کی غیر مصقد ترتیب پہلے سے دریافت شہ ہیں۔
چوہے وہ واحد جانور ہیں جنہیں انسان میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا ادراک حاصل کرنے کے لیے کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چوہوں پر ہونے والی تحقیق کی مدد سے سرطان، ذیابیطس، امراض قلب اور بے شمار دیگر انسانی بیماریوں کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔






















