حیاتیاتی تنوع کی کمی روکنے میں ناکامی

دنیا بھر میں مونگے کی چٹانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے
،تصویر کا کیپشندنیا بھر میں مونگے کی چٹانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے
وقت اشاعت

ایک اہم عالمی ماحولیاتی گروپ نے خبردار کیا ہے کہ حیاتیاتی تنوع میں تیزی سے کمی کی وجہ سے دنیا میں مونگے کی نصف چٹانیں، پانی اور خشکی پر رہنے والے جانداروں کی ایک تہائی اور ممالیہ جانداروں کی ایک چوتھائی کے قریب نسل کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس بات کی نشاندہی بقائے ماحول کی عالمی انجمن یا انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے اپنی ایک رپورٹ میں کی ہے۔

آئی یو سی این نے اس رپورٹ کی تیاری کے لیے چوالیس ہزار مختلف النوع جانداروں کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق آئی یو سی این کی ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل جانداروں کی چوالیس ہزار آٹھ سو اڑتیس میں سے آٹھ سو انہتر تو ناپید ہو چکی ہیں اور اگر ان میں ان دو سو نوے اقسام کو بھی شامل کر لیا جائے جو ناپید ہونے کے دہانے پر ہیں تو یہ تعداد اک ہزار ایک سو انسٹھ تک جا پہنچتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں حیاتیاتی تنوع میں کمی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں اور گزشتہ پانچ برس کے دوران خطرے کا شکار جانداروں کی نسلیں، ان کا قدرتی ماحول اور جغرافیائی محل و وقوع کو انسان کے ہاتھوں شدید خطرے کا سامنا رہا ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2002 میں دنیا بھر کی حکومتوں نےحیاتیاتی تنوع کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام کے لیے سنہ 2010 کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی تاہم رپورٹ کے مطابق یہ ہدف حاصل کرنا ناممکن ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں مونگے کی چٹانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جب کہ گزشتہ پانچ برس کے مقابلے میں اب قدرے زیادہ ممالیہ، پرندے اور خشکی اور پانی پر رہنے والے جاندار خصوصاً وہ جنہیں انسان خوراک یا ادویات کی تیاری کے لیے شکار کرتا ہے، مشکلات کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے سینئر ایڈیٹر کرسٹوفر وائی کے مطابق ’حیاتیاتی تنوع زوال پذیر ہے اور آئندہ سال اس بات کو ماننے سے کوئی بھی انکار نہیں کرے گا۔ یہ ہر جگہ ہو رہا ہے‘۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وائی کا کہنا تھا کہ حیاتیاتی تنوع کو درپیش خطرات کو نہ صرف اجاگر کرنے بلکہ ان سے نمٹنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ اس وقت دنیا بھر کے رہنما اقتصادی بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن بازارِ حصص اور قرضوں کے برعکس جانوروں کے ناپید ہونے کا خطرہ ایسا ہے جس میں گیا وقت ہاتھ نہیں آ سکتا‘۔

اس حوالے سے یورپی یونین کی ترجمان باربرا ہیلفیرچ کا کہنا ہے کہ ’یورپ میں پچاس فیصد کے قریب نسلیں خطرے کا شکار ہیں یا پھر ہونے والی ہیں۔ جانداروں کی قدرتی رہائشگاہیں اور ماحول سکڑ رہا ہے اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم بہت کچھ کر رہے ہیں لیکن یہ اتنا نہیں جتنا کہ حیاتیاتی تنوع کو پہنچنے والا نقصان روکنے کے لیے کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا‘۔