میدانِ جنگ میں روبوٹس کا استعمال خطرناک

- مصنف, جیسن پلمر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
دانشوروں کا کہنا ہے کہ فوجی مقاصد کے لیے بنائےگئے قوتِ فیصلہ کے حامل روبوٹس کو جنگ میں استعمال کرنے کے معاملے پر بین الاقوامی بحث کی ضرورت ہے۔
یونیورسٹی آف شیفلڈ کے پروفیسر نوئل سرکئی نے لندن میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے دوران ایسے روبوٹس کے زیادہ استعمال سے لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسان دوست روبوٹک ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں ابھی پچاس سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ تاہم ان کا یہ بھھی کہنا تھا کہ امریکی فوج نے پہلی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ روبوٹس کے استعمال کے دوران اخلاقی تحفظات کو کم کرنے کے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔
پروفیسر سرکئی کے مطابق فوج کے نئے ایجنڈے میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ ہدف کون ہے اور اسے روبوٹس نے کیسے اور کس وقت نشانہ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روبوٹس ٹیکنالوجی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد مصنوعی ذہانت پر ہے لیکن فوج کا اس بارے میں خیال قدرے مختلف ہے کیونکہ وہ مصنوعی ذہانت کو سائنس فکشن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس ٹیکنالوجی کے پروفیسر سرکئی نے خطاب میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ بغیر پائلٹ کے طیارے کو کنٹرول کرنے والا شخص میدان جنگ کی تباہ کاروں سے ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھا ہوتا ہے۔ ’یہ لوگ دن بھر ایسے طیاروں کو کنٹرول کرتے ہیں اور چھٹی ہونے پر گھر جا کر کھانے کھاتے اور اہلخانہ کہ ساتھ وقت گزارتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ لڑنے کا ایک برُا طریقہ ہے جس کی وجہ سے جنگ لڑنے کے بنیادی اصول ڈرامائی انداز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔’ ٹیکنالوجی میں جدت کی وجہ سے مجموعی نقصان کو کم نہیں کیا جا سکتا ہے ۔کیونکہ ایسے حملوں کے لیے خفیہ معلومات فراہم کرنے والے اتنی تیزی سے کام نہیں کر رہے ہوتے۔‘
انہوں نے کہا کہ دو ہزار چھ سے لے کر اپریل دو ہزار نو تک پاکستان کے قبائلی علاقے پر جاسوس طیاروں کے تقریباً ساٹھ حملوں میں القاعدہ کے چودہ ارکان کے ساتھ چھ سو ستاسی عام لوگ بھی مارے گئے۔ پروفیسر سرکئی کے مطابق میدان جنگ سے جسمانی طور پر دوری جیسا کہ بغیر پائلٹ کے طیاروں اور فیصلے کی قوت کے حامل زمینی روبوٹس کا استعمال بہت زیادہ خدشات کو جنم دیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ روبوٹس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ جنگ کے بنیادی اصولوں پر پورا نہیں اتر سکتے ہیں اور وہ دوستوں کے خیرخواہ نہیں ہوتے بلکہ عسکری مفادات کو بھر پور طاقت سے حاصل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق روبوٹ عام لوگوں اور دشمنوں میں تفریق کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں بلکہ اس کا اندازہ صرف انسان ہی لگا سکتے ہیں۔
رواں سال جولائی میں امریکی ائرفورس کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہدف پر حملے کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے جاسوس طیاروں کو استعمال کرنے کا ذکر کیا گیاہے۔ رپورٹ کے مطابق بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے جنگ کے دوران قانونی اور طے کردہ پالیسی کے مطابق انسانی ہدایات کے بغیر فیصلہ کر سکیں گے۔ رپورٹ میں اس بار کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں کے خطرناک جنگی فیصلے فوجی اور سیاسی رہنماوں کے اس بابت قانونی اور اخلاقی تحفظات حل کرنے سے مشروط ہے۔
پروفیسر سرکئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکہ نے روبوٹس کے استعمال میں قانونی اور اخلاقی تحفظات پر بات کی ہے کیونکہ اس سے پہلے یہ نہیں کیا جاتا تھا۔






















