آسمان پر گرنے والی بجلی

بجلی
،تصویر کا کیپشنبجلی کے ان کوندوں کو چالیس میل اوپر کی شمت جاتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا۔
وقت اشاعت

سائنسدانوں نے ایسی تصاویر بنائی ہیں جن میں بادلوں سے نکلنے والی بجلی نیچے زمین کی طرف اور آسمان کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک منفرد واقعہ ہے اور یہ گزشتہ سال طوفانِ بادو باراں کے دوران پیش آیا اور اس دوران چمکنے والے بجلی کو ساٹھ کلومیٹر یا چالیس میل اوپر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’دیو قامت فشار‘ کے طور پر بھر معروف بجلی کا یہ کوندہ اسی قدر طاقتور تھا جس قدر کے زمین کی طرف گرنے والی بجلی ہو سکتی ہے۔

امریکی محققین کی ٹیم نے اس کوندے کے برقی چارج کی ریڈیائی پیمائش بھی کی۔

اس کوندے کی تصاویر نارتھ کیرولینا کی ڈیوک کے قریب واقع درہم یونیورسٹی کی ایک فیلڈ سائٹ سے بنائی گئیں۔

یہ تصاویر ’نیچر جیو سائینس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہیں اور دوسرے سائنسدانوں کو اس نوع کی بجلی چمکنے کے واقعے کے بہتر مشاہدے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

اس نوع کا ’دیوقامت فشار‘ ہر طوفانِ بادو باراں کے دوران دیکھنے میں نہیں آتا اور سائنسدانوں کو اب تک اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ کس نوع کے طوفانِ باد و باراں کے دوران بجلی افقی رخ اختیار کرتی ہے۔

اس پورے مطالعے کی نگرانی کرنے والے ڈیوک یونیورسٹی کی پروفیسر سٹیو کیومر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ہم جو کچھ بالآخر دکھانے میں کامیاب ہوئے ہیں وہ محض ایسے کوندے نہیں ہیں جو کسی بھی طوفانِ بادو باراں کے دوران پیدا ہو سکتے ہیں اور افقی رخ پر سفر کر سکتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اور بالائی سطح پر بھی اتنے ہی برقی اثرات پیدا کر سکتے ہیں جتنے کہ زمین پر گرنے والی بجلی کر سکتی ہے‘۔