ہوانا شہر کے سبزی کے کھیت

ہوانا میں کھیتی باڑی
،تصویر کا کیپشنتیل کی کمی کے بعد ٹریکٹر کی جگہ بیلوں نے لے لی
وقت اشاعت

بدلتے موسم، خشک سالی اور بڑھتی ہوئی آبادی سب مستقبل میں خوراک کی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

عالمی زراعت ایندھن اور کیمیائی کھاد پر انحصار کی وجہ سے تیل کی کمی سے بری طرح متاثر ہو سکتی ہے اور اس بات کا تجربہ بیس برس پہلے کیوبا کو ہو چکا ہے۔

کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں اکثر شہر کے مرکزی علاقوں میں خوبصورتی سے تیار کیے گئے سبزی کے پلاٹ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ کبھی یہ پلاٹ فلیٹوں کے بیچ میں نمودار ہوتے ہیں تو کبھی کسی پرانی حویلی کے کھنڈر کے قریب۔ ان پلاٹوں میں بڑی مقدار میں سبزیاں اور پھل اگائے جاتے ہیں۔

کئی پلاٹ تو انتہائی چھوٹے سائز کے ہیں جن میں چند قطاروں میں سلاد کے پتے اور چکندر لگائے گئے ہیں۔ سبزیوں کے ایسے پلاٹ ان جگہوں پر بھی بنائے گئے ہیں جہاں کبھی گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ تھی اور اب یہ پارکنگ استعمال میں نہیں۔

اسی کے مقابلے میں کچھ پلاٹوں کا رقبہ فٹبال کے کئی میدانوں کے برابر ہے۔ عام طور پر ان پلاٹوں کے قریب ہی ایک سٹال میں یہاں کاشت کی گئی سبزیاں اور پھل مقامی لوگوں کو سستے داموں فروخت کیے جاتے ہیں۔

ہوانا
،تصویر کا کیپشنہوانا میں پارکنگ کی جگہ پر بھی سبزیوں کے پلاٹ بنائے گئے

بیس برس قبل کیوبا کی زراعت بہت مختلف تھی۔ انیس سو ساٹھ اور انیس سو نواسی میں ایک قومی پالسی کے تحت کیوبا میں تمباکو، کماد اور زیادہ آمدن والی دیگر فصلیں کاشت کرنے پر زور تھا۔کیوبا اس پیداوار کے بدلے مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک سے تیل حاصل کرتا تھا۔

کیوبا کو تیل اتنا سستا ملتا تھا کہ اس کی زراعت کا مکمل دارومدار اسی پر تھا جیسا کہ آج کے مغربی ممالک میں ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تیل کی سپلائی بند ہو گئی۔ اسے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا سامنا بھی تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملکی میں خوراک کا بحران پیدا ہو گیا۔

اس صورتحال میں کیوبا کو ایسی زراعت کی طرف جانا تھا جس کی بنیاد خود انحصاری پر تھی۔ تیل اور ٹریکٹر کی غیر موجودگی میں ہل چلانے کے لیے بیلوں کی ضرورت تھی۔ کیمیائی کھاد کی عدم موجودگی میں قدرتی ذرائع تلاش کیے گئے۔

کیوبا میں اب تقریباً تین لاکھ بیل ہل چلانے کے لیے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دو سو ایسے حیاتیاتی مراکز ہیں جہاں بیکٹیریا، فنگی اور دیگر حیاتیاتی عناصر کی افزائش ہوتی ہے۔

ہوانا میں تقریباً دو سو کے قریب پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں جو کو آپریٹو کے طور پر کام ہرتے ہیں اور جہاں سالانہ چالیس لاکھ ٹن سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس پیداوار کی بدولت کیوبا سبزیوں اور پھلوں کے معاملے میں نوے فیصد خود کفیل ہے۔

اسی طرح کے ایک کو آپریٹو پر کام کرنے والے ایمیلیو آندریز نے کہا کہ ہم بہت سی سبزیاں پیدا کرتے ہیں جو مقامی لوگوں، سکول، ہسپتال اور ہوٹل کو فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سبزیوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ شہر میں پیدا کی گئی ہیں اور اس سے لوگوں کو روزگار بھی ملتا ہے۔

کیوبا میں پہلی بار تیل کی کمی ہوئی تو لوگوں کی خوراک خطرناک حد تک کم ہو گئی تھی لیکن اب ان کی خوراک برطانیہ کے لوگوں سے کچھ ہی کم ہے۔کیوبا اور دوسرے مغربی ممالک میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ مغربی ممالک میں گوشت اور دودھ کی مصنوعات کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

کیوبا کی خوراک میں چکنائی کم ہوتی ہے اور اسے پیدا کرنے کے لیے کم ایندھن کی ضرورت ہے۔ کیوبا میں زراعت کے ایک ماہر نے کہا کہ دنیا کیوبا سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے جہاں زراعت میں انسان، زمین اور ماحول کا خیال رکھا جاتا ہے۔