جنوبی کوریا:سیارچہ خلاء میں نہ پہنچ سکا

جنوبی کوریا کا پہلا خلائی راکٹ کامیابی سے داغے جانے کے باوجود مصنوعی سیارچے کو مقررہ مدار میں پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔
جنوبی کوریا نے منگل کی صبح راکٹ خلاء میں بھیجنے کا کامیاب تجربہ کیا تاہم حکام کے مطابق راکٹ کا پہلا اور دوسرا مرحلہ منصوبے کے مطابق طے پایا تاہم اس کے بعد راکٹ زیادہ اوپر چلا گیا اور سیارچہ اپنے مقررہ مدار میں نہیں پہنچ سکا۔
روس کی مدد سے تیار کیا جانے والا یہ راکٹ سیول سے چار سو پچھہتر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع نارو خلائی کمپلیکس سے روانہ ہوا تھا۔ تینتیس میٹر لمبے اور ایک سو چالیس ٹن وزنی
اس راکٹ کو کوریا سپیس لانچ وہیکل ون کا نام دیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ راکٹ ماہِ رواں کی اٹھارہ تاریخ کو روانہ کیا جانا تھا تاہم تکینیکی خرابی کی وجہ سے سائنسدانوں نے روانگی سے صرف آٹھ منٹ قبل یہ عمل ملتوی کر دیا تھا۔
راکٹ کے خلاء میں پہنچانے کا عمل دو مراحل پر مشتمل تھا۔ پہلے مرحلے میں روس کے فراہم کردہ مائع ایندھن کو جلا کر لانچ کے وقت سترہ سو کلو نیوٹن کی قوت پیدا کی گئی جبکہ دوسرے مرحلے میں وہ ٹھوس ایندھن جلا جسے جنوبی کوریائی انجینئرز نے تیار کیا تھا۔ اس مرحلے میں اسّی کلو نیوٹن قوت پیدا ہوئی اور اسی قوت کی مدد سے مصنوعی سیارچے کو خلاء میں اس کے مدار میں پہنچایا جانا تپا مگر یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔
جنوبی کوریا کا ہمسایہ شمالی کوریا اس راکٹ پروگرام پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ خود شمالی کوریا کو اپنے راکٹ پروگرام پر عالمی تنقید کا سامنا رہا ہے۔رواں برس کے اوائل میں ہی شمالی کوریا نے خلاء میں ایک سیارہ پہنچانے کا دعوٰی کیا تھا تاہم جاپان، امریکہ اور جنوبی کوریا نے اسے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ یہ درحقیقت بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کے تجربے کی ایک کوشش تھی۔
جنوبی کوریا جاپان، چین اور بھارت جیسے دیگر ایشیائی ممالک کی طرح جدید خلائی پروگرام تیار کرنا چاہتا ہے اور وہ اس سے قبل دیگر ممالک کے راکٹوں کی مدد سے دس سیارچے خلاء میں روانہ کر چکا ہے۔ گزشتہ برس اپریل میں جنوبی کوریا نے روسی سویوز راکٹ کی مدد سے اپنا پہلا خلاء باز بھی روانہ کیا تھا۔ یو سو یئون نامی اس خلاء باز نے بین الاقوامی خلائی مرکز میں گیارہ دن گزراے تھے۔


















