شیروں کی پناہ گاہ بچانے کی کوششیں

نیشنل پارک تباہ ہوگیا تو یہاں پر رہنے والے چالیس شیروں کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا
،تصویر کا کیپشننیشنل پارک تباہ ہوگیا تو یہاں پر رہنے والے چالیس شیروں کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

مہاراشٹر میں شیروں کی محفوظ پناہ گاہ ' تاڈوبا اندھاری ٹائیگر ریزرو' کو بچانے کے لیے ریاست کی غیر سرکاری اور ماحولیاتی تنظیموں نے ممبئی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی تین عرضداشت داخل کی ہیں جنہیں عدالت نےیکجا کر لیا ہے۔

ریاستی حکومت نے مذکورہ پناہ گاہ سے محض بارہ کلومیٹر کے دائرے میں اڈانی پاور لمیٹڈ کو کوئلے کی کان کے لیے زمین لیز پر دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے لیے کمپنی نے ضابطوں کی کارروائیں مکمل بھی کر لی ہیں۔ حکومت کی اس کارروائی سے ناراض مقامی افراد اور ماحولیات کے لیےکام کرنے والی تنظیموں نے اس کا سخت احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے مہاراشٹر کا یہ نیشنل پارک تباہ ہو جائے گا ساتھ ہی یہاں پر رہنے والے چالیس شیروں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

ریاست کی مختلف تنظیموں نے مل کر ایک گروپ ' ایکجٹ ' تیار کیا ہے جس کے رکن سوانند سونی نے بی بی سی کو بتایا کہ تاڈوبا اندھاری پناہ گاہ ہمارے ماحولیات کے لیے بے حد اہم ہے۔ سونی کےمطابق وہ چاہتے ہیں کہ عدالت اس سلسلہ میں کوئی رہنما اصول بنائے اور حکومت کو ہدایت دے کہ ریاست میں کہیں بھی اس طرح ماحولیات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔

تاڈوبا پناہ گاہ مہاراشٹر ہی نہیں ہندوستان کا سب سے بڑا ٹائیگر بینک مانا جاتا ہے۔ شیروں پر ریسرچ کرنے والے فیلڈ بائیولوجسٹ ڈاکٹر امول کھڈگیکر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت یہاں سب سے زیادہ شیرنی اپنے بچوں کے ساتھ پناہ لیے ہوئے ہے۔ ایسے میں کوئلے کی کان کھودنے کی اجازت دینا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ ملک میں ویسے ہی اب شیروں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر امول کے مطابق یہ سال شیروں کی نسل پروری کے لیے بہترین سال ثابت ہو گا لیکن اگر ایسے میں اس طرح کی نقل و حرکت یہاں ہوئی تو یہ شیروں کی نسل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

امول کے مطابق انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ محکمہ جنگلات کے دو اہم اعلی افسران چندر پور ڈپٹی کنزرویٹر پروین چوان اور آر ایس یادو نے انتہائی آسانی کے ساتھ کمپنی کو لیز پر جگہ دینے کے لیے کلیئرنس دے دی۔

محکمہ وزارت جنگلات نے لوگوں کے غصہ اور احتجاج کے بعد محکمہ کے اعلی افسران سے رپورٹ طلب کی۔ پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فوریسٹ سی ایس جوشی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اڈانی پار لمیٹٰڈ کے پروجیکٹ دیے جانے سے یہاں شہروں کی پناہ گاہ ماحولیات اور لوہار جھیل سبھی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

تاڈوبا نیشل پارک مہاراشٹر کے شمال مشرقی حصے میں بسا ہوا ہے۔ لوہارا اور چندر پور گاؤں کے اطراف بنے اس نیشل پارک کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک میں شیروں کی پناہ گاہ ہے۔ یہ ایک سو سولہ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس کے علاوہ پانچ سو آٹھ مربع کلومیٹر کے دائرے میں جنگلی جانور اور نایاب جنگلی جانور اور پرندے ہیں۔ پارک کے ایک حصے میں پچھتر اقسام کے ہزارہا درخت، پینتیس اقسام کے نباتات جڑی بوٹیاں اور جھاڑیاں ہیں جو ماحولیات کے لیے بے حد ضروری ہیں۔