کنیریا کیا اب بھی ایک ٹرمپ کارڈ ؟

دانش کنیریا پاکستان کے دوسرے کامیاب ترین لیگ سپنر ہیں
،تصویر کا کیپشندانش کنیریا پاکستان کے دوسرے کامیاب ترین لیگ سپنر ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

سری لنکا کے خلاف نامکمل رہ جانےہونے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی لیگ اسپنرز کے کامیاب نہ ہونے کے نتیجے میں یہ سوال شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ دانش کنیریا کیا اب بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے ٹرمپ کارڈ یا فتح گر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

دانش کنیریا دو ٹیسٹ میچوں کی تین اننگز میں 60ء77 کی بھاری اوسط سے صرف پانچ وکٹیں حاصل کر سکے۔ اس غیر متاثرکن کارکردگی کے بعد مبصرین اور ماہرین ان کی بولنگ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور عام رائے یہی سامنے آئی ہے کہ ان سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اپنے زمانے کے کامیاب لیگ سپنر مشتاق محمد کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ کنیریا پاکستان کے نقطۂ نظر سے ایک اہم بولر ہے لیکن ان میں جو مجھے خامی نظر آئی ہے وہ یہ کہ ان کی لائن بہت سیدھی ہے جس کی وجہ سے گیند ٹرن ہو کر آف اسٹمپ سے مزید باہر چلی جاتی ہے اور بیٹسمین کو کٹ شاٹ کھیلنے کے لیے کافی وقت مل جاتا ہے حالانکہ اسے سٹمپ کو ٹارگٹ بنانا چاہیے تاکہ بیٹسمین ڈرائیو کھیلنے پر مجبور ہو سکے۔ اس کے علاوہ وہ کریز کا صحیح استعمال بھی نہیں کر سکا اور وکٹ کے بالکل قریب سے بولنگ کرتا رہا ہے‘۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دانش کنیریا میں کوئی تیکنیکی خامی ہے تو کوچ انتخاب عالم اسے کیوں دور نہیں کرسکے جو خود ایک ورلڈ کلاس لیگ سپنر رہے ہیں اور دوسری اہم بات یہ کہ موجودہ چیف سلیکٹر عبدالقادر بھی اپنے دور کے ورلڈ کلاس لیگ سپنر تھے۔ کیا یہ دونوں اپنا تجربہ کنیریا میں منتقل نہیں کر سکتے؟

مشتاق محمد اس کا ذمہ دار بھی دانش کنیریا کو ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ میں نے کنیریا کی بولنگ کے بارے میں انتخاب عالم سے بات کی تاہم ان کا یہی کہنا تھا کہ کنیریا کو اس کی خامیوں کے بارے میں متعدد بار سمجھایا ہے۔میں انتخاب کی اس بات سے اس لیے متفق ہوں کہ میں نے بھی کنیریا کو دوسال پہلے کافی باتیں سمجھائی تھیں لیکن انہیں افسوس ہے کہ انہوں نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی‘۔

عبدالقادر، دانش کنیریا کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’دانش کنیریا بہت زیادہ سوچنے والا بولر نہیں۔اس میں اچھی منصوبہ بندی کرنے کا فقدان ہے اس کے علاوہ وہ بڑے دل کا بولر بھی نہیں ہے‘۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر دانش کنیریا کے کیریئر پر نظر ڈالیں تو وہ کئی اعتبار سے اپنے سینئرز انتخاب عالم، عبدالقادر اور مشتاق احمد سے زیادہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ دانش کنیریا نے53 ٹیسٹ میچوں میں 225 وکٹیں حاصل کی ہیں جو عبدالقادر کی 236 وکٹوں کے بعد کسی بھی پاکستانی سپنر کی وکٹوں کی دوسری بڑی تعداد ہے۔ دانش کنیریا نے پاکستان میں کھیلے گئے25 ٹیسٹ میچوں میں109 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ملک سے باہر کھیلے گئے28 ٹیسٹ میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد116 ہے۔

دانش کنیریا کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم نے21 ٹیسٹ جیتے جن میں ان کی112 وکٹیں ہیں۔ عبدالقادر نے پاکستان میں کھیلے گئے 40 ٹیسٹ میچوں میں168 وکٹیں حاصل کیں لیکن پاکستان سے باہر کھیلے گئے27 ٹیسٹ میچوں میں وہ صرف68 وکٹیں حاصل کرسکے۔ عبدالقادر کے ہوتے ہوئے پاکستانی ٹیم نے21 ٹیسٹ جیتے جن میں انہوں نے100 وکٹیں حاصل کیں۔

مشتاق احمد نے ان دونوں کے مقابلے میں زیادہ وکٹیں ملک سے باہر حاصل کی ہیں جن کی تعداد118 ہے جبکہ انہوں نے99 وکٹیں ان 22 ٹیسٹ میچوں میں حاصل کیں جو پاکستان نے جیتے۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کے اعدادوشمار ان تینوں سے کم متاثرکن ہیں۔ ملک میں کھیلے گئے21 ٹیسٹ میچوں میں وہ 71 وکٹیں حاصل کر سکے جبکہ ملک سے باہر26 ٹیسٹ میں ان کی وکٹیں54 رہیں۔ انہوں نے30 وکٹیں ان 5 ٹیسٹ میچوں میں حاصل کیں جو پاکستانی ٹیم کی جیت پر ختم ہوئے۔

حالیہ برسوں میں پاکستانی ٹیم اپنے پیس اٹیک کے باوجود دانش کنیریا پر بہت زیادہ انحصار کرتی آئی ہے۔ ہر سیریز سے قبل انہیں ٹرمپ کارڈ اور میچ ونر قرار دینا معمول رہا ہے ۔ متعدد مواقعوں پر انہوں نے ٹیم کی جیت میں اہم کردار بھی ادا کیا تاہم کئی بار وہ حریف بیٹسمینوں پر خاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کنیریا پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ وہ دیر سے ردھم میں آتے ہیں اور پہلی وکٹ حاصل کرنے تک بہت زیادہ رنز دے چکے ہوتے ہیں۔انہوں نے اوسطاً ہر 70 گیند کے بعد ایک وکٹ حاصل کی ہے جو بہرحال عبدالقادر اور انتخاب عالم سے بہتر ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ کنیریا نے جن 96 اننگز میں بولنگ کی ہے ان میں سے34 میں انہوں نے سو یا زائد رنز دیے ہیں۔ عبدالقادر نے111 اننگز میں بولنگ کی جن میں سے 26 اننگز ایسی ہیں جن میں انہوں نے سو یا زائد رنز دیے۔ سری لنکا کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں کنیریا کی کارکردگی ان کی اب تک کی سب سے خراب پرفارمنس تھی جس میں انہوں نے47 اوورز میں183 رنز دیئے لیکن انہیں کوئی وکٹ نہ مل سکی۔

دانش کنیریا پر رنز کی بہتات کا الزام اپنی جگہ لیکن اس نکتے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنی کئی وکٹوں سے خراب فیلڈنگ خصوصاً وکٹ کیپنگ کی وجہ سے محروم ہوئے۔کنیریا کو ہمیشہ اس بات کا گلہ رہا کہ انہیں ون ڈے انٹرنیشنل کے لیے قابل اعتماد نہیں سمجھا گیا۔ انہیں ون ڈے میں موقع نہ دیے جانے کی وجہ ان کی کمزور بیٹنگ اور فیلڈنگ بتائی جاتی رہی ہے۔ وہ گزشتہ ورلڈ کپ کے پلان کا حصہ نہیں تھے تاہم اچانک انہیں پاکستانی ٹیم میں جگہ ملی اور وہ ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف دو میچز کسی قابل ذکر کارکردگی کے بغیر کھیلے ۔ کنیریا چھ سال کے عرصے میں صرف 18 ون ڈے کھیل سکے ہیں جن میں انہوں نے صرف15 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

دانش کنیریا کے مقابلے میں عبدالقادر اور مشتاق احمد ون ڈے انٹرنیشنل سکواڈ کا لازمی حصہ رہے ہیں اس کا سبب کپتان عمران خان کا ان دونوں پر بھرپور اعتماد تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخاب عالم نے سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کے بارے میں اپنی رپورٹ میں جہاں یونس خان کو کپتان بنانے اور کامران اکمل کی جگہ سرفراز احمد کو موقع دینے کی بات کی تھی اسی رپورٹ میں انہوں نے دانش کنیریا کو ون ڈے میں بھی کھلانے کی تجویز پیش کی تھی لیکن موجودہ حالات کنیریا کے لئے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی سازگار نہیں اور انہیں میچ ونر ثابت کرنے کے لیے میچ وننگ پرفارمنس کی اشد ضرورت ہے۔