لاہور حملے سے مالی نقصان کا احتمال

سری لنکن ٹیم پر حملے سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے انعقاد کا شدید دھچکا پہنچا ہے
،تصویر کا کیپشنسری لنکن ٹیم پر حملے سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے انعقاد کا شدید دھچکا پہنچا ہے
    • مصنف, شفیع نقی جامعی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
  • وقت اشاعت

لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے نتیجے میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کو مالی اعتبار سے ایک بڑے نقصان کا سامنا ہے۔ اس حملے سے ٹین سپورٹس کے ساتھ پاکستانی ٹی وی کوریج کے ایک سو چالیس اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کے پانچ سالہ معاہدے پر براہ راست اثر پڑا ہے۔

گو کہ سری لنکا کے ساتھ ادھورے چھوٹے لاہور ٹیسٹ میچ کی کوریج کا معاوضہ پاکستان کو مل سکتا ہے لیکن آگے اندھیرا نظر آتا ہے۔ نیوزی لینڈ جسے سال کے آخر میں پاکستان آ کر تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے میچ کھیلنے تھے جو اب پاکستان میں نہیں ہونگے۔ اگر پاکستان یہ میچ کسی نیوٹرل گراونڈ پر منعقد کرائے اور میزبانی کرے تب بھی کم از کم تینتیس فیصد آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

یہ آمدنی نہ صرف ٹی وی اور میڈیا کوریج سے ہوتی ہے بلکہ گیٹ منی یعنی شائقین کرکٹ کے گراؤنڈ آکر ایسے میچ دیکھنے سے بھی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اب ایسی آمدنی بھی نہیں ہوگی ۔

پاکستان کے ہاتھ سے چیمپینز ٹرافی پہلے ہی جا چکی ہے اور اب 2011 کے عالمی کپ کی مشترکہ میزبانی کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ یہ مشترکہ میزبانی بھارت بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ مل کر تھی لیکن اب چیمپینز ٹرافی کے بعد یہ بھی جاتی نظر آتی ہے۔ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کے میڈیا ترجمان سمیع الحسن نے چیمپینز ٹرافی اور عالمی کپ کی میزبانی اور حتمی تاریخ کے تناظر میں کہا ہے کہ اس پر اپریل کے مہینے میں دوبئی میں ہونے والے آئی سی سی کے بورڈ اجلاس میں بحث ہوگی۔لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان میں کرکٹ کے میچز ہونا ذرا مشکل لگتے ہیں۔

آسٹریلیا کہہ چکا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنی کر کٹ سیریز انگلینڈ میں کھیلنے کے لیے تیار ہے جبکہ انگلینڈ کہہ چکا ہے کہ پاکستان اگر چاہے تو ہمارے گراؤنڈ، سہولتیں اور انتظامات حاصل کر سکتا ہے۔ظاہر ہے یہ کچھ فی سبیل اللہ تو نہیں بلکہ ماہرین کے مطابق پاکستان کو تینتیس سے چالیس فی صد آمدنی تیاگنی پڑے گی۔

ہاکی کے کھیل کو دیکھیں تو سابق کپتان اولمپین کوچ اور مینیجر اصلاح الدین کہتے ہیں کہ ہاکی کی پانچ نامور ٹیمیں جنہیں آئندہ دو سالوں میں پاکستان بلانے اور ان سے اپنے ہاں آ کر کھیلنے کی منصوبہ بندی ہوتی رہی ہے اگر یہ سب حسب منشا یا منصوبہ بندی ہوتا ہے تو پاکستان کو سالانہ پچیس سے تیس ملین ڈالر آمدنی کا سبب بنتا ہے ظاہر ہے اب ایسا نظر نہیں آتا۔

سکواش میں پاکستان کے تین بڑے بین الاقوامی مقابلے یعنی پاکستان اوپن چیف آف نیول سٹاف اور چیف آف آرمی سٹاف مقابلے پاکستان کے لیے خطیر نہ سہی لیکن قدرے معقول ذریعۂ آمدنی بنتے ہیں گویا ان پر بھی انااللہ پڑھی جا سکتی ہے۔ گویا لاہور میں سری لنکا کرکٹ ٹیم پرگولی چلانا لنکا ڈھا کر گیا ہے اور پاکستان کو محض مختلف کھیلوں کے بڑے میچوں کے انعقاد سے ہونے والی اندازا اڑسٹھ ملین ڈالر کی آمدنی پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔