افغان کرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ

- مصنف, عبدالئی کاکٹر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے پچھلے ہفتے پاکستان میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سکیورٹی کے خطرے کے پیش نظر اپنا لاہور کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔
افغان کرکٹ ٹیم کے کوچ کبیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ پانچ مارچ سے لاہور میں شروع ہونے والا تھا مگر سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے لاہور کا دورہ منسوخ کردیا ہے اور اب انہوں نے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں تربیتی کیمپ لگایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دو ہزار گیارہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے حوالے سے جنوبی افریقہ میں ورلڈ کپ کوالیفائینگ راونڈ میں حصہ لینے کے لیے افغانستان کی ٹیم پانچ سے سترہ مارچ تک تربیتی کیمپ لگانے اور وہاں کی مقامی ٹیموں کے ساتھ دوستانہ میچ کھیلنے کے لیے لاہور جارہی تھی۔
لاہور کے دورے کو منسوخ کرنے کے بعد انہوں نے نے ایشین کرکٹ کونسل سے رابطہ کیا جس نے انہیں پاکستان کے کسی دوسرے شہر میں کیمپ لگانے کی اجازت دے دی ۔کبیر خان کے مطابق انہوں نے پشاور کے ارباب نیاز سٹیڈیم میں کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا جو چھ مارچ سے شروع ہوکر سترہ مارچ کو ختم ہوگا۔
ان سے پوچھا گیا کہ صوبہ پنجاب کے مقابلے میں صوبہ سرحد میں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہے تو پھر انہوں نے پشاور کا انتخاب کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا کہ’چونکہ یہاں پر افغان بڑی تعداد میں آباد ہیں، زبان، ثقافت اور لباس سے بھی یہاں افغان اور پاکستانی کا فرق کرنا ذرا مشکل ہے لہذا انہوں نے پشاور کا انتخاب کیا۔‘
کابل میں افغان کرکٹ بورڈ کے صدر شہزادہ محسود نے فون پر بی بی سی ارود سروس کو بتایا کہ افغانستان کی ٹیم اس لیے پاکستان کے شہر لاہور میں تربیتی کیمپ لگا رہی تھی کہ افغانستان میں پریکٹس کے لیے سہولیات ناکافی ہیں اور اس کے علاوہ وہاں ایسی اچھی ٹیمیں نہیں ہیں جن کے ساتھ وہ کھیل سکیں۔
پاکستان کے شہر لاہور میں گزشتہ ہفتہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے بس پر حملہ ہوا تھا جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ شاید غیر ملکی ٹیمیں اب پاکستان کا دورہ نہ کریں۔


















