پاکستان میں ہاکی کا زوال

پاکستان نے سنہ 1994 میں آخری بار عالمی کپ جیتا تھا
،تصویر کا کیپشنپاکستان نے سنہ 1994 میں آخری بار عالمی کپ جیتا تھا
    • مصنف, مناء رانا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان کا قومی کھیل ہاکی جس میں کبھی پاکستان کا ڈنکا بجتا تھا اب کئی برس سے رو بہ زوال ہے۔

پاکستان کی ہاکی ٹیم کو تین اولمپک گولڈ میڈل، چار عالمی کپ، تین چمپئنز ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ وہ دور تھا کہ پاکستان کی ٹیم اگر کوئی ٹورنامنٹ نہیں بھی جیتتی تھی تب بھی وکٹری سٹینڈ پر اس کی موجودگی طے سمجھی جاتی تھی۔لیکن اب یہ دور ہے کہ وکٹری سٹینڈ پر پہنچنا ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

پاکستان نے آخری مرتبہ عالمی کپ 1994 میں جیتا اور اس کے بعد پاکستانی ٹیم کی کارکردگی بری ہی ہوتی گئی ہے۔اس سال ہونے والے اولمپک گیمز میں بڑے وعدوں اور دعوؤں کے ساتھ شرکت کرنے والی پاکستان کی ٹیم نے خراب کارکردگی کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے اور بارہ ٹیموں میں آٹھویں نمبر پر آئی۔

پاکستان کے ہاکی ماہرین نے جن ایشیائی ملکوں کی ٹیموں کو ہاکی کھیلنا سکھایا وہی ایشین ٹیمیں آج پاکستان پر بھاری ہیں اور پاکستان دنیا میں آٹھویں اور ایشیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔

فلائنگ ہارس کے نام سے پہچانے جانے والے ماضی کے سٹار ہاکی کھلاڑی سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ ہاکی میں تنزلی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہاکی کے کھلاڑیوں کو اس میں اپنا مستقبل نظر نہیں آتا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ کسی زمانے میں لوگ بڑے شوق سے اپنے بچوں کو ہاکی کھیلنے بھیجتے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ اس کے ذریعے ان کے بچے کو نوکری مل جائے گی لیکن کئی اداروں نے اپنی ہاکی کی ٹیمیں بنانا بند کر دیں، کھلاڑیوں کو کسی ادارے میں مستقل نوکری نہیں ملتی یہاں تک کہ جو کھلاڑی قومی ٹیم میں بھی منتخب ہو جائے اسے کنٹریکٹ پر ہی نوکری ملتی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے لوگوں کا رجحان ہاکی کی طرف بہت کم ہوگیا اور ہاکی کا ٹیلنٹ رکھنے والے کھلاڑیوں کی تعداد بھی کم ہوتی چلی گئی۔

سمیع اللہ کے مطابق ہاکی کے منتظمین بھی اس تمام صورتحال کو نہ سنبھال سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ہاکی میں کھلاڑی کم ہوگئے اور متبادل کھلاڑی نہ ہونے کے سبب کھلاڑیوں نے بھی اپنی من مانی شروع کر دی جبکہ منتظمین نے اپنے عہدوں کی خاطر کھلاڑیوں کے ان رویوں سے سمجھوتہ کرنا شروع کر دیا۔ حکام اور کھلاڑیوں کے ان رویوں کے سبب ہاکی کا کھیل تنزلی کا شکار ہوا۔

سنہ انیس سو چورانوے میں عالمی کپ کی فاتح پاکستانی ٹیم کے کپتان شہباز سینئر کا کہنا ہے کہ ’عالمی کپ میں اس فتح کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ ہاکی ترقی کرتی لیکن ہوا اس کے بر عکس‘۔ شہباز سینئر اس کا قصور وار ہاکی فیڈریشنز کے حکام کو ٹھہراتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’نوے کی دہائی ہی سے ہاکی کا زوال شروع ہوا کیونکہ اس وقت سے ہاکی فیڈریشن ان لوگوں کے ہاتھ میں رہی کہ جنہیں صرف اپنی کرسی بچانے کا شوق تھا اور ہاکی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ قابل لوگوں کی جگہ سفارشی اور خوشامدی لوگوں کو موقع دیا جاتا رہا‘۔

شہباز سینئر کے مطابق تقریبا نو دس سال پہلے جب پورے پاکستان سے سولہ سال سے کم عمر کے بہترین کھلاڑیوں کو چنا گیا اور لاہور میں ان کے لیے ایک اکیڈمی بنائی گئی تب ان کی تربیت کی ذمہ داری نااہل لوگوں کو سونپ دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان بچوں کی تربیت صحیح خطوط پر کی جاتی تو اس وقت پاکستان کی ٹیم ایک مضبوط ہاکی ٹیم ہوتی۔ شہباز نے ہاکی کے کھلاڑیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں بھی پیشہ ورانہ رویوں کا فقدان رہا ہے اور اب بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’نہ تو وہ اپنی فٹنس اور نہ ہی ٹورنامنٹس کے دوران ان اخلاقیات کا خیال رکھتے ہیں جو ایک ایتھلیٹ کے لیے ضروری ہوتی ہیں‘۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے موجودہ سیکرٹری آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ ہاکی کے زوال کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی ہاکی کو انہی گھسے پٹے طریقوں سے چلانے کی کوشش کی گئی جو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں رائج تھے جبکہ باقی دنیا ہاکی میں آگے بڑھ گئی۔ ان کے بقول ہاکی میں ترقی کے لیے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت تھی جس پر غور نہیں کیا گیااور ہم ماضی سے ہی چمٹے رہے۔ آصف باجوہ کے مطابق کوچز اور ریفریز کی جدید تربیت نہیں کی گئی جس سے ہم ہاکی کے بدلتے قوانین سے جلد آگاہی حاصل نہیں کر سکے اور نہ ہی کھلاڑیوں کی تربیت جدید خطوط پر ہو سکی۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستان ہاکی میں دوبارہ کبھی وہ مقام حاصل کر سکے گا جو کبھی اس کے پاس تھا، سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے لگن کے ساتھ بہت محنت کی ضرورت ہے تبھی پانچ چھ سال میں ایسی ٹیم بنائی جا سکتی ہے جو پہلی تین رینکنگ میں آ سکے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے گراس روٹ کی سطح پر بہت کام ضروری ہے۔ سب سے پہلے جونیئر ٹیم تیار کی جانی چاہیے کیونکہ اگر جونیئر ٹیم اچھی ہو گی تبھی سینئر ٹیم اچھی بن سکے گی۔

سمیع اللہ نے کہا کہ وہ کبھی بھی غیر ملکی کوچ کے حق میں نہیں رہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو غیرملکی ٹرینر کی ضرورت ہے جو انہیں بتا سکے کہ ہاکی کے لیے کس طرح کی فزیکل فٹنس درکار ہے۔

اسی سوال پر شہباز سینئر کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں تو ایسا ممکن نہیں۔ شہباز کے بقول ’پاکستان میں سب کرسی کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ جس عہدے کے لیے وہ کوششیں کر رہے ہیں اس کے اہل بھی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کا اکیڈمیاں بنانا ایک اچھا اقدام تو ہے لیکن ان اکیڈمیوں میں باصلاحیت افراد کو کوچنگ کرنی چاہیے۔پاکستان کی سینئر ٹیم کی بارے میں شہباز سینئر کا خیال ہے کہ یہ ٹیم عالمی کپ کے لیے کوالیفائی تو کر لے گی لیکن اگلے سال ہونے والے ہاکی کے عالمی کپ میں اس کی پوزیشن چھٹی سے بہتر نہیں ہو سکتی۔