ایتھلیٹکس میں آرمی اور واپڈا کی جیت

آرمی اور واپڈا نے کامیابی سے اپنے اعزاز کا دفاع کیا
،تصویر کا کیپشنآرمی اور واپڈا نے کامیابی سے اپنے اعزاز کا دفاع کیا
    • مصنف, مناء رانا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

اکتالیسویں قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں مردوں کے مقابلے پاکستان آرمی نے جبکہ خواتین کے مقابلے پاکستان واپڈا نے جیت لیے۔

پنجاب سٹیڈیم لاہور میں تیرہ مارچ سے سولہ مارچ تک جاری رہنے والی اکتالیسویں قومی ایتھلیٹکس چمیپئن شپ میں مردوں کے مقابلوں میں پاکستان آرمی کیے ایتھلیٹس نے بیس ایونٹس میں پندرہ طلائی،سات نقرئی اور نو کانسی کے تمغے حاصل کیے اور مجموعی طور پر 396 پوائنٹس حاصل کر کے ٹرافی جیتی۔

دوسرے نمبر پر پاکستان واپڈا کی ایتھلیٹکس ٹیم رہی جس نے پانچ طلائی، سات نقرئی اور کانسی کے چھ میڈل لے کر دوسری پوزیشن کی۔

خواتین کے مقابلوں میں پاکستان واپڈا کی ٹیم نے چودہ گولڈ، تیرہ سلور اور چھ برونز میڈل جیت کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دوسرے نمبر پر پاکستان سٹیل کی ٹیم رہی جس نے پانچ گولڈ میڈل حاصل کیے۔

ان مقابلوں کے دوران بیجنگ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ایتھلیٹ صدف صدیقی نے نہ صرف سو میٹر دوڑ میں سونے کا تمغہ جیتا بلکہ دو سو میٹر دوڑ میں نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا۔

یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کو جنوبی ایشیا اور ایشیاء کی سطح پر میڈل دلا سکتی ہیں۔ صدف صدیقی کا کہنا تھا کہ انہوں نے دو سو میٹر کی دوڑ میں اپنا وقت مزید بہتر بنانے محنت کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں اسے بائیس سیکنڈ تک لے جاؤں گی جو کہ ایشیاء کی سطح کی ٹائمنگ ہے‘۔صدف نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کے لیے ایشیاء کی سطح پر میڈل جیتیں تاکہ پاکستان کی ایتھلیٹکس میں ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے۔