تجربے کا فقدان

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کرکٹ بورڈ ویمنز ونگ کی چیئرپرسن شیریں جاوید کا کہنا ہے کہ ویمنز ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی مزید بہتر ہوسکتی تھی لیکن تجربہ واضح فرق بن کر سامنے آیا۔
ان کے خیال میں فیلڈنگ اور مڈل آرڈر بیٹنگ میں بہت زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔
پاکستانی خواتین کی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا میں ویمنز ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے بعد منگل کو وطن واپس پہنچی ہے۔
پاکستانی ٹیم عالمی مقابلے میں پہلی بار کسی میچ میں کامیابی حاصل کرکے سپر 6 مرحلے تک پہنچی جس میں اس نے ویسٹ انڈیز کو شکست دی تاہم پانچویں پوزیشن کے میچ میں پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کو دوبارہ ہرانے میں ناکام رہی اور اس کی چھٹی پوزیشن رہی۔
شیریں جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے جارہی تھی تو سب نے یہ کہہ دیا تھا کہ یہ ٹیم کچھ بھی نہیں کرسکتی اور سپر 6 تک رسائی کی کوئی بات ہی کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ لڑکیاں اچھا کھیلیں لیکن چونکہ انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہیں تھا لہذا وہ دباؤ کا سامنا نہیں کرپائیں۔
شیریں جاوید نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو جتنے زیادہ میچز کھیلنے کو ملیں گے ان کی کارکردگی میں یقیناً بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کے دوران آئی سی سی اور دیگر تمام ملکوں نے پاکستانی لڑکیوں کی کارکردگی اور ڈسپلن کی بہت تعریف کی۔
پی سی بی ویمنز ونگ کی چیئرپرسن نے کہا کہ فیلڈنگ کوچ کی اس ٹیم کو ضرورت ہے اس کے علاوہ مڈل آرڈر بیٹنگ پر بھی توجہ دینی ہوگی البتہ وہ بولنگ سے مطمئن ہیں۔
شیریں جاوید نے کہا کہ سابق فاسٹ بولر وقار یونس کے ہم زلف جو سڈنی میں کوالیفائیڈ کوچ ہیں پاکستان آکر رضاکارانہ طور پر خواتین کرکٹرز کی کوچنگ خصوصاً فیلڈنگ پر توجہ دینگے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اے ٹیم کا کیمپ لگایا جارہا ہے جس کے بعد پاکستانی ٹیم کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینا ہے اس طرز کی کرکٹ کے لئے سلیکشن پر خاص توجہ دی جائے گی۔
عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کی کپتان عروج ممتاز کی کارکردگی کے بارے میں سوال پر شیریں جاوید نے کہا کہ انہیں منیجر عائشہ اشعر کی رپورٹ کا انتظار ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرینگی۔
واضح رہے کہ ٹیم کی منیجر عائشہ اشعر ورلڈ کپ میں کپتان کی کارکردگی کو غیرتسلی بخش قرار دے چکی ہیں۔


















