چین میں کرکٹ کا جوش خروش

جاوید میانداد
،تصویر کا کیپشنجاوید میانداد کو پاکستان کی طرف سے کرکٹ کا سفیر مقرر کیا گیا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ چین اگلی دہائی میں کرکٹ کی بہت بڑی مارکیٹ کا روپ اختیار کرسکتا ہے۔

حکومت پاکستان نے جاوید میانداد کو چین کے لیے کرکٹ سفیر مقرر کیا ہے اور انہوں نے اس حیثیت میں گزشتہ دنوں چین کا دورہ کیا اور اب وہ اپنی رپورٹ صدر آصف علی زرداری کو پیش کریں گے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف ہیں۔

پاکستان اور چین نے کرکٹ میں تعاون کے سلسلے میں مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستان اپنے دوست ملک کو کوچنگ اور دیگر سہولتوں کے سلسلے میں ضروری مدد فراہم کرے گا۔

جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ انہوں نے چین میں کرکٹ کے معاملے میں کافی دلچسپی دیکھی ہے جو حکومتی سطح سے لے کر عام طالبعلم تک ہے اور یہ صورتحال یقیناً حوصلہ افزا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر چین کو کرکٹ میں ضروری سہولتیں فراہم کی گئیں تو وہ بہت جلد اپنا مقام بناسکتا ہے۔ جاوید میانداد نے کہا کہ آنے والے برسوں میں چین ایک ایسا پلیٹ فارم بن سکتا ہے جہاں سے آئی سی سی کرکٹ کو دنیا بھر میں پھیلاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل چین میں کرکٹ کے فروغ کے لیے تکنیکی اور دیگرسہولتیں فراہم کررہی ہے۔

ایشین کرکٹ کونسل کے دو کوچز اس وقت چین میں کوچنگ میں بھی مصروف ہیں۔ ان میں سے ایک سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر راشد خان ہیں۔

جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی محسوس ہوگی اگر ان کا تجربہ چینی ٹیم کو اچھے معیار کی ٹیم بنانے میں کام آسکے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین نے اپنے یہاں آئندہ سال ہونے والے ایشین گیمز میں کرکٹ کو بھی شامل کیا ہے۔ چینی حکومت کی کوشش ہے کہ کرکٹ کو ملک بھر میں بتدریج مقبول بناتے ہوئے2020 تک ایک بین الاقوامی معیار کی ٹیم تشکیل دی جاسکے۔