پولو:’سہولتیں بڑھی ہیں مہارت نہیں‘

’مقامی کھلاڑیوں کی مہارت بڑھانے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی‘
،تصویر کا کیپشن’مقامی کھلاڑیوں کی مہارت بڑھانے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی‘
    • مصنف, مناء رانا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پولو ایک ایسا کھیل ہے جسے بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے۔ برصغیر و ہند کی تاریخ یہ بتاتی ہے پولو کھیلنا یہاں کے شاہی خاندان کے افراد کا شوق ہوا کرتا تھا۔

پاکستان میں باقاعدگی سے پولو کھیلی جاتی ہے اور ملک کے شمالی علاقوں میں واقع وادی شندور میں ہونے والے پولو مقابلے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے شائقین پاکستان آتے ہیں۔

پاکستان میں تقریباً چوبیس کلب ایسے ہیں جو اس کھیل کی سر پرستی کرتے ہیں جن میں اہم ترین نام لاہور پولو کلب کا ہے۔ پولو کی نیشنل چمپئن شپ بھی ہر سال لاہور میں ہی منعقد ہوتی ہے۔ پاکستان میں پولو کے ترویج میں پاکستان آرمی کا اہم کردار ہے تاہم گزشتہ دو برسوں سے آرمی کی ٹیم کی قومی چمپئن شپ اور دوسرے پولو ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے سے اب یہ کھیل صرف امراء تک ہی محدود ہو گیا ہے۔

ماضی میں جب قومی پولو چیمپئن شپ ہوتی تھی تو اس میں آرمی سے دو یا تین ٹیمیں شریک ہوا کرتیں تھیں لیکن گزشتہ دو سال سے ان مقابلوں میں صرف نجی کمپنیوں کی سپانسر کردہ ٹیموں نے ہی شرکت کی اور ان میں یا تو وہ غیر ملکی پیشہ ور کھلاڑی شریک ہوئے جو ان کثیر القومی کمپنیوں نے بلائے تھے یا متمول گھرانوں کے شوقیہ پولو کھیلنے والے کھلاڑی۔ اس کے برعکس آرمی کی ٹیم میں جو پولو کھلاڑی شامل ہوتے ہیں ان میں نوجوان آرمی افسران کے علاوہ نچلے رینک کے کھلاڑی بھی ہوتے ہیں جو عام گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود بھی پولو جیسا مہنگا صرف اس لیے کھیل سکتے ہیں کیونکہ انہیں گھوڑوں سمیت تمام سہولتیں ان کا ادارہ دیتا ہے۔

شندور
،تصویر کا کیپشنشندور میں ہونے والے پولو مقابلے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے شائقین پاکستان آتے ہیں۔

پاکستان پولو ایسوسی ایشن کے سیکرٹری کرنل اظہر علی کے مطابق پاکستان آرمی کی ٹیم کی پولو میں شرکت نہ کرنے کی وجہ گھوڑوں کو لگنے والی ایک وائرل بیماری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو سال پہلے مونا میں واقع آرمی کے گھوڑوں کے بہت بڑے ڈپو کے دو سو گھوڑوں کو ایک وائرل بیماری کی وجہ سے تلف کرنا پڑا۔ کرنل اظہر نے بتایا کہ نہ صرف مونا میں قائم اس ڈپو میں یہ وائرل بیماری پھیلی بلکہ یہ راولپنڈی میں بھی آرمی کے گھوڑوں تک بھی پہنچ گئی اور وہاں بھی متعدد گھوڑوں کو تلف کرنا پڑا اور یہی وجہ ہے کہ گھوڑے نہ ہونے کی وجہ سے آرمی کی پولو ٹیم مقابلوں میں شرکت نہیں کر سکی۔ تاہم ان کے مطابق اب اس بیماری کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے اور پاکستان آرمی کے ڈپو میں گھوڑوں کی افزائش نسل کا کام دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔

پاکستان پولو کلب کے صدر عبدالقادر ممدوٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ برس سے پولو کے لیے سہولتوں میں بہت بہتری آئی ہے لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ کھلاڑیوں کی پولو میں مہارت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ کثیرالاقومی کمپنیاں بیرونِ ملک سے پیشہ ور کھلاڑی بلا کر ٹورنامنٹ میں شرکت کرتی ہیں لیکن مقامی کھلاڑیوں کی مہارت بڑھانے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی۔

عبدالقادر ممدوٹ نے کہا کہ پولومیں مہارت کے لیے بھی کھلاڑی کی کوچنگ ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پولو ایسوسی ایشن اور لاہور پولو کلب نے مختلف اوقات میں باہر سے کوچز بلائے تاکہ کھلاڑیوں کی پولو میں مہارت بہتر ہو لیکن یہ کافی نہیں بلکہ زیادہ کوچنگ کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ کھلاڑیوں کو خود بھی محنت کی ضرورت ہے اور چونکہ پولو کے لیے جہاں بہت پیسہ درکار ہے وہاں اس میں مہارت بڑھانے کے لیے بہت وقت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کہ پولو کھیلنے والی اس بزنس کمیونٹی کے پاس نہیں اور یہی وجہ ہے کہ جہاں ماضی میں پاکستان میں بھی چار ،پانچ یا چھ گولوں تک کا ہینڈی کیپ رکھنے والے کھلاڑی ہوا کرتے تھے لیکن اب اکثریت ایک یا دو گول کا ہینڈی کیپ رکھنے والے کھلاڑیوں کی ہے۔