آئی سی ایل کرکٹر فوری واپسی نہیں

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستانی کرکٹرز آئی سی ایل چھوڑنے کے باوجود فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکیں گے اور انہیں اس کے لئے کم ازکم ایک سال انتظار کرنا پڑے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی سی سی نے تمام رکن ممالک کو غیرمنظور شدہ کرکٹ کے بارے میں اپنی پالیسی سے متعلق تفصیلات بھیج دی ہیں جسے ریزولوشن 32 کا نام دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کے تحت اگر کوئی کھلاڑی آئی سی ایل چھوڑ کر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک خاص مدت تک یعنی ’کولنگ پیریڈ ‘ کا انتظار کرنا پڑے گا۔
سلیم الطاف نے کہا کہ یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ غیرمنظور شدہ کرکٹ چھوڑ کر آنے والے کرکٹرز کو ایک سال تک انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔اس پر تفصیلی غور آئی سی سی کے سترہ اور اٹھارہ اپریل کو دبئی میں ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ چار کرکٹرز عبدالرزاق، رانانویدالحسن، عمران نذیر اور محمد یوسف کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ اس نے تین کرکٹرز کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ممکنہ اسکواڈ میں شامل کرلیا تھا لیکن چوبیس گھنٹے بعد ہی اس نے اپنے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے عبدالرزاق، رانانویدالحسن اور عمران نذیر کو اس اسکواڈ سے ڈراپ کردیا۔
سلیم الطاف نے کہا کہ انہوں نے آئی سی ایل سے معاہدے ختم کرنے کے بارے میں پاکستانی کرکٹرز کے دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لئے کپل دیو کو خط لکھا تھا جس کا ابھی تک جواب موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کرکٹر یہ کہتا ہے کہ اس نے آئی سی ایل چھوڑ دی ہے یا آئی سی ایل نے اسے ریلیز کردیا ہے تو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو تحریری ثبوت مہیا کردے کیونکہ وہ زبانی دعوؤں پر یقین نہیں رکھتے۔
سلیم الطاف نے یہ بھی بتایا کہ آئی پی ایل میں شامل کرکٹرز نے معاہدے اپنی ذاتی حیثیت میں کئے تھے اس کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کمشنر للیت مودی کو ای میل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے کرکٹرز کو بھارت جاکر آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی تاہم اب چونکہ آئی پی ایل جنوبی افریقہ میں کھیلی جارہی ہے لہذا حکومت اور کرکٹ بورڈ کو کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن آئی پی ایل پر اب یہ منحصر ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹرز کو شامل کرتے ہیں یا نہیں۔
سلیم الطاف نے فاسٹ بولر محمد آصف کے خلاف ہونے والی تحقیقات کے بارے میں کہا کہ وسیم باری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کا اجلاس بیس اپریل کو ہوگا جس کے بعد وہ اپنی رپورٹ بورڈ کو پیش کردیں گے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں دبئی حکام سے جو بھی معلومات ملی تھیں وہ انہوں نے کمیٹی کے سپرد کردی ہیں۔


















