سینئر کھلاڑی ٹیم میں واپس

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ حسن سردار نے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا ہے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سہیل عباس اور وسیم احمد کی واپسی فیڈریشن کی مجبوری ہے۔ واضح رہے کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم بھارت، ملائشیا اور نیوزی لینڈ سے ہارکر پانچ ٹیموں میں چوتھی پوزیشن حاصل کرسکی۔ چیف سلیکٹر حسن سردار نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں ٹیم کی کارکردگی سے مایوسی ہوئی ہے کیونکہ انہیں توقع تھی کہ ٹیم فائنل ضرور کھیلے گی۔ حسن سردار نے کہا کہ چونکہ اولمپکس کے بعد پاکستانی ٹیم پہلی بار کوئی ٹورنامنٹ کھیل رہی تھی لہذا کارکردگی اچھی نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ واضح رہے کہ بیجنگ اولمپکس کے بعد پاکستانی ٹیم نے ہمبرگ کے چار قومی ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت کی تھی جس میں وہ تیسرے نمبر پر آئی تھی۔ حسن سردار نے کہا کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم مکمل نہیں تھی اس میں سہیل عباس، وسیم ریحان بٹ جیسے سینئر شامل نہیں تھے جو ایشیا کپ کی ٹیم میں شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ جونیئر ٹیم کے چند کھلاڑی بھی سینئر ٹیم میں شامل نہیں کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پنالٹی کارنر پر اور فارورڈز کا گول نہ کرنا بھی مسئلہ بنا رہا۔ چیف سلیکٹر نے کہا کہ ان کا ہدف ایشیا کپ ہے چونکہ اب زیادہ وقت نہیں ہے اس لیے سہیل عباس اور وسیم احمد کو ٹیم میں شامل کرنا ان کی مجبوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل عباس اور دوسرے کھلاڑی کیمپ میں آکر فٹنس ثابت کرکے ٹیم میں واپس آسکیں گے۔ حسن سردار نے یہ بھی کہا کہ سہیل عباس اس وقت لیگ کھیل رہے ہیں لہذا وہ اس وقت ردھم میں بھی ہیں اور فٹ بھی ہیں۔ ’وہ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں جن کی پاکستان کو ضرورت ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ پاکستان کے نقطہ نظر سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اگر پاکستانی ٹیم ایشیا کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو اسے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کھیلنا ہوگا جو زیادہ سخت ہوگا۔ حسن سردار نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی ٹیم ایشیا کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اسے اس کے لیےغیرمعمولی کارکردگی دکھانی ہوگی۔ اس سوال پر کہ سینئر کھلاڑیوں پر انحصار کرکے پاکستان ہاکی فیڈریشن کیا آگے کے بجائے پیچھے نہیں جارہی ہے؟ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ فیڈریشن کو ایسے باصلاحیت نئے کھلاڑی نہیں مل رہے ہیں جو سینئر کھلاڑیوں کی جگہ لے سکیں لہذا فیڈریشن کی بھی مجبوری ہے کہ انہی پرانے کھلاڑیوں سے کام لے رہی ہے۔ وہ اگرچہ مقامی سطح پر بہترین پرفارمنس دیتے ہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر ان کی کارکردگی اچھی نہیں ہوتی کیونکہ ان کا معیار ایک خاص حد تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر کھلاڑیوں کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کی جگہ لینے والا اسوقت کوئی بھی نہیں ہے لہذا وہ بھی کسی خطرے کے بغیر کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس پندرہ برسوں میں اگر نچلی سطح پر ہاکی کو منظم رکھا جاتا تو آج پاکستانی ہاکی کو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے اور ایک مربوط پروگرام کے تحت کھلاڑی سامنے آرہے ہوتے جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتا تھا۔


















