’پاکستانی مٹی‘ پر میچ

سپورٹس سٹی سٹیڈیم
،تصویر کا کیپشنپِچ کے لیے مٹی پاکستان سے منگائی گئی ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
  • وقت اشاعت

پاکستان چار برس بعد کرکٹ کے عالمی چیمپینز کے خلاف آج ایک ایسے میدان میں اترے گا جو ہے تو ملک سے باہر لیکن اس کی پچ پاکستان سے لائی گئی مٹی سے تیار کی گئی ہے۔

سیریز کا افتتاحی میچ دبئی سے بیس کلومیٹر دور صحرا کے بیچوں بیچ بنائے گئے سپورٹس سٹی کے نئے نویلے کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کی صورت میں یہ گراؤنڈ پاکستان کے لئے ’ہوم گراؤنڈ‘ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

پانچ ایک روزہ اور ایک ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ پر مشتمل اس سیریز کے پہلے دو ون ڈے اور آخر میں کھیلا جانے والا بیس اووروں کا میچ دبئی اور بیچ کے تین ایک روزہ میچ ابو ظہبی میں کھیلے جائیں گے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک روزہ میچوں کی یہ سیریز پاکستان میں ہونا تھی لیکن سکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان آنے سے آسٹریلیا کے انکار کے بعد اسے متحدہ عرب امارات منتقل کر دیا گیا۔

دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں میچ انتظامات کا حتمی جائزہ لینے کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دبئی سپورٹس سٹی کے چیف ایگزیکیٹو بالا سبرامینئم نے کہا کہ ’ویسے بھی اس گراونڈ میں بنائی گئی تینوں پچوں کے لئے مٹی خصوصی طور پر پاکستان سے منگوائی گئی ہے جبکہ گھاس جنوبی امریکہ سے لا کر لگائی گئی ہے۔ اور ہماری طرف سے پاکستان کو اس گراؤنڈ کو ہوم سیریز کے تمام میچز یہاں کھیلنے کی کھلی پیشکش ہے‘۔

سبرامینئم نے اس سٹیڈیم میں دستیاب سہولیات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا پہلا کرکٹ میدان ہے جس میں تماشائیوں کی ہر نشست سے تین سو ساٹھ زاویے کا نظارہ ممکن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پچیس ہزار کی نشستوں والے اس سٹیڈیم سے متصل گلوبل کرکٹ اکیڈمی میں تیس وکٹیں بنائی گئی ہیں جن کے لئے مٹی آسٹریلیا، برطانیہ اور دنیا کے دیگر کرکٹ کھیلنے والے ممالک سے درآمد کی گئی ہے۔ ’ان وکٹس کا مقصد یہ ہے کہ اگر ایک ایشیائی ٹیم برطانیہ یا آسٹریلیا جانے سے پہلے چند روز دبئی میں ان ملکوں سے لاکر بنائی گئی وکٹ پر پریکٹس کرے گی تو اسے ان ملکوں کی وکٹوں کے باؤنس اور رفتار کو سمجھنے میں مدد ملے گی‘۔

پاکستان اور آسٹریلیا ویسٹ انڈیز میں چار برس قبل ہونے والے ورلڈ کپ کے بعد پہلی بار آمنے سامنے ہوں گے۔ اس موقع پر پاکستانی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کے مطابق پاکستانی ٹیم کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بیشتر پاکستانی کھلاڑی ان چار برسوں میں پاکستانی ٹیم میں آئے ہیں اور انہوں نے کبھی آسٹریلیا کے خلاف میچ نہیں کھیلا۔

’جہاں تک آسٹریلوی انفرادی کھلاڑیوں کا تعلق ہے تو ان میں اینڈریو سائیمنڈ پر ہماری خصوصی توجہ ہے کیونکہ وہ ہمیشہ پاکستان کے خلاف بہت اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں‘۔

انتخاب عالم نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی فاسٹ باؤلر شعیب اختر سے بہت امید لگا رکھی ہے جنہوں نے گزشتہ چند روز کی پریکٹس کے دوران بہت اچھی فٹنس اور کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

آسٹریلیا کی ٹیم کو ہال ہی میں جوائن کرنے والے کھلاڑی کیلم فرگوسن کا کہنا تھا کہ موسم کچھ گرم ہے لیکن کنڈیشن ڈے نائٹ میچ کے لئے شاندار ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ٹیم نے دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں دوپہر اور رات کے وقت پریکٹس کی ہے اور انہیں اس نئے گراؤنڈ میں کھیلنے کا بہت مزا آیا ہے۔

پاکستاني ٹيم ميں يونس خان (کپتان)، سلمان بٹ، شاہد آفريدي، ناصر جمشيد، احمد شہزاد، مصباح الحق، شعيب ملک، کامران اکمل (وکٹ کيپر)، فواد عالم، عمر گل، سہيل تنوير، شعيب اختر، ياسر عرفات، سعيد اجمل اور افتخار انجم شامل ہيں۔