پاکستان کھلاڑی کی وطن واپسی

- مصنف, مناء رانا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
مئی میں ملائشیاء میں ہونے والےایشیاء کپ ہاکی کے مقابلوں کےلیےلگائے گئے کیمپ میں یورپین لیگ کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
پینیلٹی کارنر لگانے کے ماہر سہیل عباس کی چار سال بعد پاکستان کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ سہیل عباس نے دسمبر 2004 میں پاکستان میں ہونے والے چمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کے بعد ریٹائر ہو نے کا فیصلہ کیا تھا اور انہوں نے یورپین لیگ ہاکی کھیلنا شروع کر دی تھی۔
فارورڈ ریحان بٹ بھی کیمپ میں شامل ہو گئے ہیں۔ فارورڈ ریحان بٹ اولمپکس میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کے بعد یورپین لیگ کھیلنے چلے گئے تھے تاہم اس دوران انہیں ایشین ہاکی فیڈریشن نے ایشیاء کا بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی دیا تھا۔
سن دو ہزار چار کے چمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی پاکستان کی ٹیم کے کپتان وسیم احمد کا بھی کل تک کیمپ میں آنے کا امکان ہے۔ وسیم احمد بھی سہیل عباس کے ہمراہ یورپین لیگ کھیل رہے تھے۔ گول کیپر سلمان اکبر چند روز تک نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں جاری کیمپ میں شرکت کے لیے یورپ سے آ جائیں گے۔
یاد رہے کہ ایشیاء کپ عالمی کپ کا کوالیفائنگ ٹورنامنٹ ہے اور حال ہی میں ہونے والے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں ناکامی کے بعد ہاکی کے حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ چار سینیئر کھلاڑیوں کے شامل ہونے سے ٹیم مضبوط ہو گی اور پاکستان عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کر لے گا۔
پاکستان کی ٹیم کے چیف سلیکٹر حسن سردار کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے گراس روٹ کی سطح پر کام نہ ہونے سے سینیئر کھلاڑیوں کے متبادل نہیں مل رہے اس لیے ایشیاء کپ میں اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے ان چاروں سینیئر کھلاڑیوں کو پاکستان کی ٹیم میں شامل کرنا ناگزیر تھا۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ملائشیاء میں ہونے والے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پانچ ٹیموں میں پاکستان کی ٹیم نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔


















