آئی پی ایل، پابندی واپس لینے کا فیصلہ

محمد یوسف بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن پر آئی سی ایل میں شرکت کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنمحمد یوسف بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن پر آئی سی ایل میں شرکت کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی
وقت اشاعت

بھارت کے کرکٹ بورڈ نے غیر سرکاری انڈین کرکٹ لیگ سے قطع تعلق کرنے کی شرط پر باغیوں کھلاڑیوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔

انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ نے انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے والے کھلاڑیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تاہم انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر شیشانک منوہر نے کہا ہے کہ انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو سرکاری انڈین پریمیئر لیگ میں اس شرط پر شامل ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ غیرسرکاری ٹوئنٹی ٹوئنٹی لیگ سے اکتیس مئی تک الگ ہو جائیں۔

تاہم ایسے کسی بھی کھلاڑی کو بین الاقوامی کرکٹ میں شمولیت کے لیے ایک سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔

منوہر نے کہا کہ ان سے بہت سے کھلاڑیوں اور معاون سٹاف نے رابطہ کیا ہے کہ اور کہا ہے کہ انڈین کرکٹ لیگ میں شمولیت اختیار کر کے ان سے غلطی ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈین کرکٹ لیگ سے علیحدہ ہونے والے کھلاڑیوں کو فوری طور پر قومی سطح پر کرکٹ کھیلنے کا موقع دیا جا سکتا ہے تاہم بین الاقوامی کرکٹ میں شامل ہونے کے لیے انہیں سزا کے طور پر ایک سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔

انڈین پریمیئر لیگ کے اس اعلان کے بعد انڈین کرکٹ لیگ ( آئی سی ایل) کے سربراہ ہیمانشو مودی نے کہا کہ آئی سی ایل کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے جن کھلاڑیوں اور معاون سٹاف کے کنٹریکٹس کی مدت ختم ہو رہی ہے ان کے کنٹریکٹس میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔

انڈین کرکٹ بورڈ اور انڈین کرکٹ لیگ کے درمیان تنازعہ انڈین ٹیم کی سن دو ہزار سات میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں کامیابی کے فوری بعد شروع ہو گیا تھا۔

انڈین کرکٹ لیگ جس میں انڈیا کے سب سے بڑے میڈیا گروپ نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے انڈین کرکٹ بورڈ کی مرضی اور اجازت کے بغیر شروع کر دی گئی تھی جبکہ انڈین کرکٹ بورڈ اپنی لیگ شروع کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔

انڈین کرکٹ بورڈ نے اس کے بعد ان تمام کھلاڑیوں اور معاون عملے پر پابندی عائد کر دی تھی جس نے اس غیر سرکاری لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انڈین کرکٹ بورڈ کے فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے کرکٹ کھیلنے والے دوسرے ملکوں کے سرکاری بورڈوں نے بھی اپنے ایسے تمام کھلاڑیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا جو آئی پی ایل میں شامل ہو رہے تھے۔

انڈین کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کا اثر دوسرے ملکوں پر بھی پڑے گا اور پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑی محمد یوسف اور نیوزی لینڈ کے تیز رفتار بالر شین بانڈ کا دوبارہ اپنے اپنے ملکوں کی قومی ٹیموں میں شامل ہونے کا راستہ کھل جائے گا۔