آصف کی پیشی یکم جون کو

محمد آصف گزشتہ سال بھارت سے پاکستان آتے ہوئے انیس روز زیرحراست رہے
،تصویر کا کیپشنمحمد آصف گزشتہ سال بھارت سے پاکستان آتے ہوئے انیس روز زیرحراست رہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کرکٹ بورڈ کی تحقیقاتی کمیٹی نے فاسٹ بولر محمد آصف سے کہا ہے کہ وہ یکم جون کو کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر اس بات کا تحریری ثبوت فراہم کریں کہ انہیں دبئی سے ڈی پورٹ نہیں کیا گیا اور وہ دوبارہ امارات میں داخل ہوسکتے ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے محمد آصف کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ اگر وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے تو ان کی غیرموجودگی میں سفارشات مرتب کرکے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین کے حوالے کردی جائیں گی۔

واضح رہے کہ محمد آصف گزشتہ سال بھارت سے پاکستان آتے ہوئے دبئی ائرپورٹ پر افیون برآمد ہونے پر انیس روز زیرحراست رہے تھے۔

انہیں دبئی سے پاکستان بھیجے جانے سے متعلق جو دستاویزات سامنے آئی تھیں ان کے مطابقں پبلک پراسیکیوٹر عصام عیسیٰ الحمیدان نے ڈائریکٹر انوسٹی گیشن اینڈ کرمنل انسپکشن کو تحریر کیا تھا کہ اگرچہ محمد آصف کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں ڈی پورٹ کیا جائے اور انہیں ان افراد کی فہرست میں شامل کرلیا جائے جن کے امارات میں داخل ہونے پر کی پابندی ہے۔

محمد آصف یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ انہیں دبئی سے ڈی پورٹ نہیں کیا گیا اور وہ دوبارہ متحدہ عرب امارات جاسکتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دبئی کیس کا جائزہ لینے کے لیے جو کمیٹی بنائی ہے اس نے محمد آصف کو متعدد بار ان کے اس دعوے کا تحریری ثبوت فراہم کرنے کے لیے کہا ہے لیکن محمد آصف ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

محمد آصف کو آئی پی ایل میں ممنوعہ قوت بخش ادویات استعمال کرنے پر بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر ایک سال کی پابندی کا بھی سامنا ہے جو اس سال ستمبر میں ختم ہوگی۔

محمد آصف کے امارات میں دوبارہ داخل ہونے کا معاملہ اس لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی زیادہ تر انٹرنیشنل کرکٹ اب دبئی اور ابوظہبی میں کھیلی جانی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات کا اطمینان کرنا چاہتا ہے کہ ایک سالہ پابندی ختم ہونے کے بعد محمد آصف کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی متحدہ عرب امارات میں ان کے داخلے پر پابندی کے سبب ایک نئی مشکل پیدا نہ کر دے۔