پاکستان: آئی سی سی کے خلاف مقدمہ

اعجاز بٹ
،تصویر کا کیپشنپی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے فیصلے سے پہلے ان سے مشورہ نہیں کی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ کے ہیڈ کوارٹر کی پاکستان سے بھارت منتقلی پر لاہور کی سول عدالت میں مقدمہ دائر کردیا ہے جس میں آئی سی سی کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ اس کا یہ اقدام غیر قانونی ہے۔

سول جج محمد یونس انیس نے اٹھارہ مئی کو سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے آئی سی سی، آئی ڈی آئی اور ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی سی سی کی جانب سے ورلڈ کپ کی میزبانی پاکستان سے چھین لینے کے بعد ورلڈ کپ سیکریٹریٹ ممبئی منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی یہ قدم نہیں اٹھا سکتی کیونکہ ایشیا کے چار ممالک کو ورلڈ کپ کی میزبانی دینے کا معاہدہ آئی سی سی نے نہیں بلکہ اس کے تجارتی معاملات چلانے والی کمپنی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ لمیٹڈ کمپنی ( آئی ڈی آئی ) نے کیا تھا جبکہ ورلڈ کپ کی میزبانی سے پاکستان کو محروم کرنے کا فیصلہ آئی سی سی نے اپنے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں کیا جس کی وہ مجاز نہیں تھی اسی لیے اس فیصلے کو بھی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے اور آئی سی سی کو قانونی نوٹس بھیجا جاچکا ہے۔

تفضل حیدر رضوی نے کہا کہ چونکہ ورلڈ کپ ایک معاہدے کے تحت چار ممالک کو ایک باڈی گردانتے ہوئے دیا گیا تھا لہذا میزبانی سے محروم ہونے کے باوجود پاکستان ورلڈ کپ سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کا رکن برقرار ہے اس صورت میں سیکریٹریٹ کی پاکستان کو بتائے بغیر منتقلی غیرقانونی اقدام ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت ماضی میں دو مرتبہ ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کرچکے ہیں تاہم آئی سی سی نے پاکستان میں سکیورٹی کو جواز بنا کر 2011 کے عالمی کپ کی میزبانی واپس لے لی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا اس بارے میں موقف یہ ہے کہ آئی سی سی نے جس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے یہ معاملہ اس کے ایجنڈے میں ہی شامل نہیں تھا۔

ورلڈ کپ سے قبل آئی سی سی پاکستان سے چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی بھی واپس لے کر یہ ایونٹ جنوبی افریقہ کو دے چکی ہے۔