پی سی بی کا قانونی نوٹس مسترد

بین الاقوامی کرکٹ کنٹرول بورڈ (آئی سی سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ کے اپنے میچز کے متبادل سینٹرز پیش کرنے سے قاصر رہا تو اسے دس ملین ڈالر مالیت کی میزبانی فیس سے محروم ہونا پڑے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سن دو ہزار گیارہ کے عالمی کپ کے میچز پاکستان سے منتقل کئے جانے پر برطانوی وکیل مارک گے کی وساطت سے آئی سی سی کو قانونی نوٹس بھیجا ہے جبکہ ورلڈ کپ سیکریٹریٹ کی لاہور سے ممبئی منتقلی کے فیصلے کو لاہور کی سول عدالت میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع اب ابوظہبی اور دبئی میں ورلڈ کپ کے میچز منعقد کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں تاہم ابھی تک اس ضمن میں آئی سی سی سے باضابطہ بات نہیں ہوئی ہے۔
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ہارون لوگارٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔
آئی سی سی کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے بورڈ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ ورلڈ کپ کے میچز پاکستان سے سکیورٹی خدشات کے سبب منتقل کئے جائیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشترکہ میزبان کی حیثیت ختم نہیں ہونی چاہئے۔
آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا ہے کہ ورلڈ کپ میچز پاکستان سے منتقل کئے جانے کا معاملہ آئی سی سی کے بورڈ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا اور آئی سی سی بورڈ یہ فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں تھا۔
آئی سی سی کےچیف ایگزیکٹیو ہارون لوگارٹ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بورڈ نہ صرف یہ فیصلہ کرنے میں بااختیار تھا بلکہ یہ معاملہ ایجنڈے میں بھی شامل تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے میچز سے محروم کئے جانے کے بارے میں آئی سی سی نے اسے صفائی کا موقع فراہم نہیں کیا جبکہ اٹھائیس اپریل کو ممبئی میں ورلڈ کپ کی سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو مدعو کئے بغیر میچز کو ازسرنو تقسیم کردی گئی۔
غور طلب بات یہ ہے کہ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ہارون لوگارٹ نے سترہ فروری کو نئی دہلی میں ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی سے کہا تھا کہ پاکستان میں حالات بہتر نہ ہونے کی صورت میں وہ متبادل سینٹرز کے بارے میں غور کریں۔
آئی سی سی کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سال فروری میں پرتھ میں منعقدہ اجلاس میں یہ پیشکش کی گئی تھی کہ وہ پاکستان میں کرکٹ کو جاری رکھنے کے ضمن میں ٹاسک فورس قائم کرے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے قانونی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ ڈپلومیسی کا راستہ بھی اپنا رکھا ہے ۔ پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ سری لنکا پہنچے ہیں جہاں وہ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے حکام سے مذاکرات کرینگے اسی طرح کی ملاقاتیں وہ بھارت اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے حکام سے بھی کرنا چاہتے ہیں۔


















