شعیب اختر ٹوئنٹی ٹوئنٹی سے باہر

شعیب اختر
،تصویر کا کیپشنشعیب اخترٹوئنٹی ٹوئنٹی کے اعلان کردہ پندرہ رکنی ٹیم میں شامل تھے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

فاسٹ بولر شعیب اختر جِلدی مرض میں مبتلا ہونے کے سبب ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہوگئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل پینل کی رپورٹ کے مطابق شعیب اختر کو جلد کی بیماری سے صحت یاب ہونے میں دس روز لگ سکتے ہیں۔تاہم میڈیکل پینل یکم جون کو دوبارہ ان کا معائنہ کرے گا اس طرح وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکتے۔

ترجمان نے بتایا کہ شعیب اختر کے متبادل کھلاڑی کے لئے آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی سے درخواست کی جائے گی اور توقع کی جا رہی ہےکہ راؤ افتخار کو شعیب اختر کی جگہ ٹیم میں شامل کیا جائے۔

ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آئندہ ماہ انگلینڈ میں کھیلا جارہا ہے اور شعیب اختر اعلان کردہ پندرہ رکنی ٹیم میں شامل تھے لیکن جلد کی بیماری میں مبتلا ہونے کے سبب وہ قومی کیمپ میں شرکت نہیں کرسکے۔ ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کےلئے ان کے پاس آخری موقع تین پریکٹس میچوں میں شرکت کی صورت میں موجود تھا لیکن ان کی فٹنس نے انہیں ان میچوں میں شرکت کی بھی اجازت نہیں دی۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم نے گزشتہ روز شعیب اختر کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔ تاہم تینتیس سالہ شعیب اختر کا آئی سی سی کے کسی بڑے عالمی ایونٹ سے قبل فٹنس مسائل سے دوچار ہوکر ٹیم سے باہر ہونے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔

وہ ستبر سنہ دوہزار سات میں جنوبی افریقہ میں منعقدہ پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی پاکستانی ٹیم میں بھی شامل تھے لیکن عالمی مقابلے سے پہلے ٹیم کی پریکٹس کے دوران ساتھی فاسٹ بولر محمد آصف کو بیٹ مارنے پر انہیں وطن واپس بھیج دیا گیا تھااور انہیں تیرہ میچوں کی پابندی اور چونتیس لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وہ سنہ دو ہزار چھ کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے والی ٹیم میں بھی شامل تھے لیکن ممنوعہ قوت بخش ادویات استعمال کرنے کی پاداش میں انہیں ٹیم سے دستبردار کردیاگیا تھا۔

سنہ دو ہزار سات کے ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لئے ٹیم کی روانگی کے عین موقع پر انہیں یہ کہہ کر ڈراپ کردیا گیا تھا کہ وہ ان فٹ ہیں تاہم مبصرین نے ٹیم سے ان کےاچانک ڈراپ کئے جانے کو ڈوپنگ کا شاخسانہ ہی قرار دیا تھا کہ انہیں اس سے بچانے کے لئے ٹیم سے باہر کیا گیا ہے۔

شعیب اختر کا پورا کیریئر مشکوک بولنگ ایکشن، فٹنس مسائل اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ سنہ دو ہزار پانچ میں انہیں انضباطی کارروائی کے طور پر آسٹریلیا کے دورے سے واپس بھیجا گیا تھا۔

گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر وہ پانچ سالہ پابندی کی زد میں آئے جو بعد میں اٹھارہ ماہ اور سترلاکھ روپے جرمانہ کردی گئی۔

شعیب اختر اپنے کیریئر میں صرف آٹھ ٹیسٹ سیریز مکمل کھیل پائے ہیں البتہ ایسے میچز بہت زیادہ ہیں جن میں وہ ان فٹ ہوکر بولنگ مکمل نہ کرسکے یا بعد کے میچز کھیلنے کے قابل نہ رہے۔آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں وہ چار میچز میں صرف تین وکٹیں حاصل کرسکے تھے۔