آئی سی سی کی راؤ افتخار کو اجازت

پی سی بی نے شعیب اختر کو ڈراپ کرکے راؤ افتخار کو ٹیم میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی
،تصویر کا کیپشنپی سی بی نے شعیب اختر کو ڈراپ کرکے راؤ افتخار کو ٹیم میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

آئی سی سی نے شعیب اختر کی جگہ راؤ افتخار کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔

راؤ افتخار ایک ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

وہ سنہ دو ہزار سات میں جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم میں بھی شامل تھے تاہم کسی میچ میں نہیں کھیل سکے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے جِلد کی بیماری میں مبتلا شعیب اختر کو ٹیم سے ڈراپ کرکے فاسٹ بولر راؤ افتخار کو ٹیم میں شامل کرنے کے لئے آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی سے درخواست کی تھی جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

دوسری جانب شعیب اختر کو پاکستانی ٹیم سے ڈراپ کرنے کا معاملہ متنازعہ بن گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کی جانب سے شعیب اختر کو فٹ قرار دیئے جانے کے اگلے ہی روز ٹیم کے کوچ انتخاب عالم نے انہیں ان فٹ قرار دے دیا جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل بورڈ نے شعیب اختر کے معائنے اور طبی رپورٹس کی روشنی میں فیصلہ کیا کہ وہ کھیلنے کی پوزیشن میں نہیں اور اگلے دس روز میں ان کا دوبارہ طبی معائنہ کیا جائے گا۔

شعیب اختر نے ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اعلان کرڈالا کہ وہ پیر سے لاہور میں شروع ہونے والے قومی ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں اسلام آباد کی قیادت کرتے ہوئے میچ ضرور کھیلیں گے۔

شعیب اختر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ دوسرا پریکٹس میچ کھیلنا چاہتے تھے لیکن اس سے قبل انہیں ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا۔

شعیب اختر کی جانب سے قومی ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کھیلنے کے اعلان پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر واضح کردیا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے ارتکاب پر ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر کی فٹنس رپورٹ اور سینٹرل کنٹریکٹ کی کاپی بھی اسلام آباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے حکام کے حوالے کردی جو ابتداء میں شعیب اختر کو کھلانے پر مصر تھے۔

شعیب اختر اس لحاظ سے بدقسمت واقع ہوئے ہیں کہ وہ پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور 2007 ء ورلڈ کپ کی ٹیموں میں بھی شامل تھے لیکن آخری وقت پر مختلف وجوہات کے سبب ٹیم سے ڈراپ کردیے گئے تھے۔