آسٹریلیا ٹونٹی ٹونٹی سے باہر

ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ میں آسٹریلیا کی ٹیم سری لنکا سے چھ ووکٹوں سے شکست کھانے کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے۔
انڈیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیر اور جنوبی افریقہ گروپ ای میں اور گروپ ایف میں نیوزی لینڈ، آئرلینڈ، سری لنکا دوسرے مرحلے کے کوالیفائی کر گئے ہیں۔ پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان منگل کو ہونے والے میچ کے بعد سپر ایٹ مرحلے میں شامل ہونے والی آخری ٹیم کا فیصلہ ہوگا۔
آسٹریلیا نے سری لنکا کو میچ جیتنے کے لیےایک سو ساٹھ رن کا ہدف دیا تھا۔ سری لنکا کے بلے بازوں نے جواب میں چار وکٹ کے نقصان پر یہ ہدف قدرے آسانی سے حاصل کر لیا۔
<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://news.bbc.co.uk/sport1/shared/fds/hi/statistics/cricket/scorecards/2009/6/15961/html/scorecard.stm" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> آئرلینڈ اور بنگلہ دیش کے میچ کا سکور کارڈ</caption><url href="http://news.bbc.co.uk/sport1/shared/fds/hi/statistics/cricket/scorecards/2009/6/15960/html/scorecard.stm" platform="highweb"/></link>
کمار سنگاکارا اور تلکرتنے دلشان نے شاندار نصف سنچریاں بنا کر آسٹریلیا کو اس ٹورنامنٹ سے باہر دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سری لنکا نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو کھیلنے کی دعوت دی اور آسٹریلیا ایک سو انسٹھ رنز تک بھی اپنے آخری کھلاڑیوں کی مار دھاڑ کی وجہ سے پہنچا پایا۔ سری لنکا کے اجنتا مینڈس نے آسٹریلیوی کھلاڑیوں کو جکڑے رکھا اور انہوں نے چار اوور میں بیس رن دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
آسٹریلیا کے لیے میچ جیتنے کے موقعے تھے لیکن ان کی بلے بازی اور تیز رفتار بالنگ ان موقعوں سے فائدہ نہ اٹھا سکی۔ یہ امر رکی پونٹگ کے لیے یقیناً باعثِ تشویش ہوگا۔
ابتداء میں شین واٹسن نے سری لنکا کے نئے کھلاڑی اسورو ادننا کو دو چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ اس کے بعد رکی پونٹنگ نے بھی مالنگا کی خراب بالوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تین چوکے لگائے۔ اس طرح پانچ اوور میں آسٹریلیا سینتالیس رن بنانے میں کامیاب ہو گیا اور اُس وقت اُس کا صرف ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا تھا۔
سنگاکارا اپنے بالروں کو جلدی جلدی تبدیل کرتا رہا اور مینڈس آسٹریلیا کے قاتل ثابت ہوئے۔ مینڈس نے پونٹگ، واٹسن اور ہسی کو آؤٹ کرکے آسٹریلیا کے لیے مشکل کھڑی کر دی۔
لیکن آخری میں آسٹریلیا کے نیچے آنے والے کھلاڑیوں نے دو تین اوور اچھے کھیل کر ایک معقول سکور بنالیا۔ مرلی تھرن کے آخری اوور میں جانسن نے انہیں دو چھکے اور ایک چوکا لگایا۔ ادننا کے آخری اوور میں جس میں ہسی کی وکٹ بھی گری سری لنکا کو اٹھارہ سکور پڑے۔ ان اٹھارہ رن میں بریٹ لی نے ایک چوکا اور چھکا لگایا۔
میچ کا آخری اوور مالنگا کے حصے میں آیا۔ اس اوور میں انہوں دو آسٹریلیوی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن باقی ماندہ چار گیندوں میں انہیں بارہ رن پڑے۔
اس طرح آسٹریلیل کی ٹیم جو کہ پندرہ اوور کے اختتام پر صرف پچانوے رن بنا پائی تھی بیس اوور میں ایک سو انسٹھ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ آخری پانچ اووروں میں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں نے پینسٹھ رن بنائے۔
جانسن آؤٹ نہیں ہوئے انہوں نے تیرہ گیندوں میں اٹھائیس رن بنائے جس کی مدد سے ان کی ٹیم سری لنکا کے لیے ایک معقول ہدف بنانے میں کامیاب ہوئی۔
سری لنکانے جب اپنی اننگز کا آغاز کیا تو سنتھ جئے سوریا انیس جلدی ہی آؤٹ ہو گئے اس وقت سری لنکا کا مجموعی سکور انیس رن تھا۔ وہ بریٹ لی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
کپتان سنگار کارا نے بڑی عمدہ اننگز کھیلی۔ انہوں نے پچپن رن بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ اسی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں مین آف دی میچ کا اعزاز بھی دیا گیا۔
میچ کے بعد انہوں نے کہا کہ ان کی حکمت عملی یہی تھی کہ بالروں کو بدلتا رہوں تاکہ آسٹریلیا کے کھلاڑی ایک بالر پر سیٹ ہو کر اسکور نہ کر پائیں۔
آخری اوور میں سری لنکا کو ایک رن چاہیے تھا اور وہ انہیں میچل کی وائڈ قرار دی جانے والی گیند پر مل گیا۔
دن کے ایک اور میچ میں آئرلینڈ نے بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے ہرا دیا۔


















