ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے خلاف نہیں:یونس

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے خلاف نہیں ہیں لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں توازن بہت ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ان دنوں یونس خان کے ان ریمارکس کا بہت چرچا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی محض ایک تفریح ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ ہونے کے باوجود یہ تماشائیوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔
یونس خان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے کوئی بھی غلط بات نہیں کی اور جو کچھ کہا وہ ان کی اپنی ذاتی رائے ہے۔
پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے آنے سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا ہے جس کے اہم ترین بیٹسمین محمد یوسف ٹیسٹ اور ون ڈے چھوڑ کر آئی سی ایل میں چلے گئے۔ انہوں نے کہا 'ٹھیک ہے ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں پیسہ ہے اور بڑی اسپانسرشپ ہے لیکن مستقبل میں اس طرز کی کرکٹ کے بارے میں ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا‘۔
یونس خان نے کہا کہ کرکٹرز کے لیے اس طرز کی کرکٹ میں بڑی کشش نظر آتی ہے لیکن جس طرح اچھی زندگی توازن کے ساتھ چلتی ہے اسی طرح ٹیسٹ ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں توازن رکھنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ ہی اصل کرکٹ ہے جس میں پانچ دن تک کرکٹر کی صلاحیت اور فٹنس کا امتحان ہوتا ہے۔
یونس خان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے لیے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا اچھا موقع ہے کیونکہ پاکستان کا گروپ دوسرے گروپ کی نسبت آسان ہے تاہم پاکستانی ٹیم کو ہر میچ یکساں انداز میں کھیلنا ہوگا اور یہ نہیں سوچنا ہوگا کہ تین میں سے دو میچ جیت لیے تو کام ہوجائے گا۔
پاکستانی ٹیم سپر ایٹ کے گروپ ایف میں سری لنکا نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ کے ساتھ ہے اور وہ بارہ جون کو سری لنکا کے خلاف سپرایٹ مرحلے کا پہلا میچ کھیلے گی۔ تیرہ جون کو اس کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہے جبکہ پندرہ جون کو اس کا میچ آئرلینڈ سے ہوگا۔
یونس خان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو تینوں شعبوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹنگ یا بولنگ کے برعکس فیلڈنگ میں بد قسمتی کی بات نہیں کی جاسکتی۔یہ اچھے یا برے دن والی بات نہیں ہے۔جو بھی کھلاڑی فٹ ہوگا وہی اچھی فیلڈنگ بھی کرتا ہوئی دکھائی دے گا۔اس میں کرکٹر کی اپنی ذاتی دلچسپی اور محنت درکار ہے کہ جتناگڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔
یونس خان نے شاہد آفریدی اور سعید اجمل کی بولنگ کی تعریف کی اور کہا کہ جس طرح جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے سپنر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اسی طرح شاہد آفریدی اور سعید اجمل کی جوڑی بھی اپنا کردار بخوبی نبھارہی ہے تاہم انہیں سہیل تنویر کا آؤٹ آف فارم ہونا بہت شدت سے محسوس ہورہا ہے ان کا فٹ ہونا اور وکٹ لینا بہت ضروری ہے۔
سری لنکن سپنرز کے خلاف حکمت عملی کے بارے میں یونس خان کا کہنا ہے کہ مرلی اور مینڈس کو اگر ہمارے بیٹسمین سنبھل کر کھیلتے ہیں تو ان کے آٹھ اوورز میں ساٹھ رنز بناسکتے ہیں لیکن اہم بات جو وہ اپنے بیٹسمینوں کو سمجھانے میں مصروف ہیں وہ یہ کہ اپنے حواس پر قابو رکھنا ہے کیونکہ گھبراہٹ میں بنا بنایا کام بگڑجاتا ہے۔


















