’بےاختیار سلیکٹر رہنا نہیں چاہتا تھا‘

عبد القادر
،تصویر کا کیپشنکرکٹ ٹیم میں گروپ بنے ہوئے ہیں: سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر
    • مصنف, عبد الرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

چیف سلیکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر نے ٹیم کے منیجر اور کوچ پر مبینہ طور پر سلیکشن میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بے اختیار چیف سلیکٹر بن کر رہنا نہیں چاہتے تھے لہذا اپنا راستہ علیحدہ کرلیا۔

عبدالقادر صرف چھ ماہ چیف سلیکٹر کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد پچھلے ہفتے اپنےعہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

جمعہ کو لاہور میں پریس کانفرنس اور بعدازاں بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں عبدالقادر نے کہا کہ انہوں نے متعدد بار پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ گیارہ رکنی ٹیم کی حتمی سلیکشن میں سلیکٹرز کا اختیار چھن جانے کے بعد کم از کم پندرہ کھلاڑیوں کے انتخاب میں سلیکشن کمیٹی بااختیار ہونی چاہئے۔

عبدالقادر نے کہا کہ اگر ٹیم کی سلیکشن منیجر یاور سعید اور کوچ انتخاب عالم ٹیم کو کرنی ہے تو پھر انہیں نتائج کی بھی ذمہ داری بھی قبول کرنی ہو گی۔

عبدالقادر نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ کے کھلاڑی منتخب کرنے کا اختیار بھی سلیکٹرز سے چھین کر منیجر اور کوچ کو دے دیا گیا ہے اور سینٹرل کنٹریکٹ کے لیےکھلاڑیوں کا انتخاب بھی منیجر اور کوچ ہی کرتے ہیں۔

عبدالقادر نے کہا کہ یونس خان بہت بڑا کرکٹر ہے لیکن ٹونٹی ٹونٹی اس کے مزاج کی کرکٹ نہیں اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ یونس خان کو ٹونٹی ٹونٹی میں منتخب نہ کرتے جبکہ شعیب ملک کو سزا کے طور پر یقیناً ٹیم سے ڈراپ کردیتے کیونکہ اس نے امارات میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں جس طرح کی بیٹنگ کی وہ سب کے سامنے ہے لیکن بورڈ نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

عبدالقادر نے کہا کہ ٹیم میں گروپ بندی ہے اگر ایک کھلاڑی کو سزا کے طور پر ڈراپ کردیا جاتا تو معاملات سدھرجاتے اور دوسروں کو بھی سبق ملتا۔

انہوں نے سوال کیا کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز کی منیجر اور کوچ کی رپورٹ پبلک کیوں نہیں کی جاتی؟

عبدالقادر نے کہا کہ وہ دو کپتانوں کے حق میں ہیں۔ ٹیسٹ کی کپتانی یونس خان کے پاس رہنی چاہئے جبکہ شاہد آفریدی کو ون ڈے کا کپتان ہونا چاہئے۔